موسمیاتی تبدیلی نے بدین کو بھی متاثر کردیا، سمندر کے پھیلاؤ اور پانی کی قلت پر تشویش

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)لاڑ ہیومینٹیرین اینڈ ڈویلپمنٹ پروگرام ایل ایچ ڈی پی کی جانب سے انڈس کنسورشیم اور گرو گرین نیٹ ورک کے تعاون سے بدین میں ”پبلک فورم 2026“ کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع ”درآمدی ایندھن سے چھٹکارا، توانائی کا تحفظ اور صاف ستھری آمدورفت کو یقینی بنانا“ تھا۔ فورم میں ماحولیاتی تبدیلی، صاف توانائی، درآمدی پٹرول اور دیگر ایندھن پر انحصار کم کرنے، الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ کیا گیا پبلک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوائرنمنٹ عبدالسلام سموں، سینئر صحافی تنویر احمد آرائیں، سینئر صحافی شفیع محمد جونیجو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل ایچ ڈی پی اقبال حیدر شیدی، ایجوکیشن فوکل پرسن محمد خان سموں، سیدہ مکل شاہ، پروگرام مینیجر ایل ایچ ڈی پی ساون خاصخیلی، صنم عباسی، رجسٹرار محتسب اعلیٰ بدین عبدالستار میمن، خادم ٹالپر اور دیگر نے کہا کہ پاکستان کا بڑا زرمبادلہ بیرونِ ملک سے پٹرول اور دیگر ایندھن درآمد کرنے پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے ملکی معیشت پر بوجھ پڑنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ صاف اور گرین انرجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ فورم مطالبہ کرتا ہے کہ سولر، ونڈ اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لیے گرین انرجی پر عائد ٹیکسز میں سہولیات فراہم کی جائیں اور عام لوگوں کے لیے صاف توانائی کو مزید سستا اور آسان بنایا جائے انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مرحلہ وار الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنے کے لیے عوام کو سہولیات، مناسب چارجنگ انفراسٹرکچر اور ترغیبی پالیسیاں فراہم کی جائیں، تاکہ پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم ہونے کے ساتھ فضائی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکے مقررین نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کوئلے اور دیگر آلودگی پیدا کرنے والے ایندھن کے استعمال میں کمی اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سولر انرجی، ونڈ انرجی اور دیگر مقامی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات بدین ضلع پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ سمندر کے پھیلاؤ، پانی کی قلت اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ضلع کے کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ بعض علاقوں کو زیرِ آب آنے کی صورتحال کا بھی سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کو نظرانداز کرنے سے آنے والی نسلوں کے لیے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں مقررین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہم ماحول کو نقصان پہنچائیں گے تو ماحول بھی ہماری زندگی، صحت اور معیشت کو متاثر کرے گا۔“ اس لیے ماحولیاتی تحفظ کو صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے عوام، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور متعلقہ اداروں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے زور دیا کہ صاف توانائی کے فروغ، ماحولیاتی آلودگی میں کمی، پائیدار آمدورفت اور توانائی کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں، تاکہ ملک درآمدی ایندھن پر اپنا انحصار کم کرتے ہوئے ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب آگے بڑھ سکے پبلک فورم میں ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن سرفراز سموں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر چائلڈ پروٹیکشن دین محمد ڈیرو، صدر بدین پریس کلب شوکت میمن، صدر ایوانِ صحافت حاجی خالد محمود گھمن، عطا سندھ یار اور دیگر شہریوں نے بھی شرکت کی

مزید خبریں

Back to top button