ہنگری کے وزیراعظم سمیت3قانون سازوں کا قانونی استثنیٰ ختم

بداپیسٹ (جانو ڈاٹ پی کے) ہنگری کی پارلیمنٹ نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے وزیراعظم پیٹر میگیار سمیت تین قانون سازوں کا پارلیمانی قانونی استثنیٰ ختم کرنے کی منظوری دے دی، جس کے بعد تینوں کے خلاف جاری تحقیقات میں مزید پیش رفت کی راہ ہموار ہوگئی۔
وزیراعظم پیٹر میگیار کو 2024 میں ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں مبینہ چوری کے مقدمے کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ استغاثہ کے مطابق جون 2024 میں بداپیسٹ کے ایک نائٹ کلب میں ایک شخص میگیار کی ویڈیو بنا رہا تھا، جس پر انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے اس کا موبائل فون لے لیا اور بعد ازاں اسے دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا۔
رپورٹس کے مطابق موبائل فون بعد میں دریا سے نکال لیا گیا اور اس کے مالک کو واپس کردیا گیا۔ میگیار نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کو سیاسی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے خود بھی اپنا استثنیٰ ختم کرنے کی حمایت کی تھی۔
اس معاملے میں ہنگری کے پراسیکیوٹر جنرل نے ستمبر 2024 میں یورپی پارلیمنٹ سے بھی میگیار کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم اس وقت درخواست منظور نہیں ہوئی تھی۔ مئی 2026 میں ہنگری کی پارلیمنٹ کا رکن بننے کے بعد انہیں دوبارہ مقامی پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہوگیا، جس کے بعد استغاثہ نے قومی پارلیمنٹ سے استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی۔
پارلیمنٹ نے میگیار کے علاوہ سابق وزیر ثقافت و اختراع بالاز ہانکو اور سابق وزیر ترقی میکلوس سیزٹاک کا استثنیٰ بھی ختم کردیا۔ ہانکو کے خلاف قومی ثقافتی فنڈ سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سیزٹاک کے خلاف سرکاری معاہدوں سے متعلق مبینہ رشوت خوری کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
قانونی استثنیٰ ختم کیے جانے کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں بلکہ متعلقہ حکام کو تحقیقات اور ممکنہ قانونی کارروائی آگے بڑھانے کا راستہ ملنا ہے۔ تینوں معاملات میں حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔



