ٹھٹھہ:دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے باوجود پلہ مچھلی کے شکار میں نمایاں اضافہ

ٹھٹھہ ( جاويد لطيف ميمن)دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے باوجود پلہ مچھلی کے شکار میں اضافہ، ماہی گیروں کے چہرے کھل اٹھے۔

 دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت کے باوجود پلہ مچھلی کے شکار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث ماہی گیروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹھٹھہ فش مارکیٹ میں ایک سے تین کلوگرام وزنی پلہ مچھلی مختلف آڑھتوں پر نیلام کی جا رہی ہے۔

فش مارکیٹ کے معروف مچھلی تاجر عبدالعزیز گندرو کے مطابق ایک کلو وزنی پلہ ساڑھے چھ ہزار روپے جبکہ ڈیڑھ کلو وزنی پلہ ساڑھے نو ہزار روپے میں نیلام ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے سائز کی پلہ مچھلی روزانہ بڑی تعداد میں فروخت ہوتی ہے، تاہم بڑا پلہ قسمت سے ہی ہاتھ آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ دریائے سندھ میں میٹھے پانی کی مسلسل کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بروقت دریائے سندھ میں پانی چھوڑا جائے تو نہ صرف پلہ مچھلی کی افزائش میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں ماہی گیروں کا روزگار بھی بہتر ہو سکے گا۔

عبدالعزیز گندرو نے بتایا کہ پلہ ایک ایسی مچھلی ہے جو سمندر اور دریا دونوں میں رہتی ہے۔ افزائش نسل کے موسم میں یہ سمندر سے دریائے سندھ میں انڈے دینے کے لیے آتی ہے۔ پلہ سندھ کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، ایران، عراق اور سری لنکا کے دریاؤں میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم سندھ کے پلے کا ذائقہ منفرد اور زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پلہ مئی سے ستمبر کے دوران دریائے سندھ میں داخل ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب دریا میں پانی کا بہاؤ تیز ہو۔ مادہ پلہ انڈے دیتی ہے، جبکہ نر پلہ کو مقامی زبان میں "کھیرو پلو” کہا جاتا ہے۔ تقریباً اڑھائی کلو وزنی مادہ پلہ میں 40 سے 50 لاکھ تک انڈے ہوتے ہیں، جو 18 سے 26 گھنٹوں میں بچے بن جاتے ہیں۔ یہ بچے دریا کے بہاؤ کے ساتھ سمندر میں پہنچتے ہیں اور بالغ ہونے کے بعد دوبارہ افزائش نسل کے لیے میٹھے پانی کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پلہ سکھر تک بڑی تعداد میں پہنچتا تھا، جبکہ پاکستان میں اس کی موجودگی ملتان تک بھی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

آخر میں عبدالعزیز گندرو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ اور تمام نہروں میں سندھ کے حصے کا پانی فوری طور پر چھوڑا جائے تاکہ ماہی گیروں، کسانوں، آبادگاروں اور فش فارمرز کا روزگار محفوظ بنایا جا سکے اور وہ خوشحال زندگی گزار سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button