ایران امریکا مذاکرات کا اگلا مرحلہ زیادہ مشکل، مگر سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ تنازعات کا واحد حل سفارت کاری اور مذاکرات ہیں، تاہم آئندہ مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوگا۔
العربیہ ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خدشات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے تھے، جس کے باعث سفارتی کوششوں کو تیز کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بیک ڈور ڈپلومیسی کو آگے بڑھانے کے لیے تین تکنیکی ٹیمیں سرگرم ہیں، جو اہم اور حساس معاملات پر تفصیلی مذاکرات کر رہی ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق ایران کے یورینیم افزودگی کے ذخائر کو کم ترین سطح پر لانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ ایران کے عالمی بینکوں میں منجمد اثاثوں کی واپسی کے طریقہ کار پر بھی غور جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً لبنان کی صورتحال اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے بھی مشاورت جاری ہے تاکہ ایک جامع اور پائیدار حل تک پہنچا جا سکے۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس نازک سفارتی عمل میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے اور عالمی امن و استحکام کے لیے اہم نتائج سامنے آئیں گے۔



