امریکاایران امن مذاکرات خطرے میں،محسن نقوی ہنگامی مشن پر ایران روانہ!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کے حوالے سے ایک بار پھر سنسنی خیز اور انتہائی ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن مذاکرات اسرائیل کی خطرناک سازشوں اور ہٹ دھرمی کے باعث شدید تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس سنگین ترین ڈیڈ لاک کو توڑنے اور عالمی امن کو تباہی سے بچانے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خصوصی حکم پر ایک بار پھر ہنگامی طور پر تہران اور مشہد بھیج دیا گیا ہے۔ دوسری جانب جنیوا میں امریکی صدر کی کور مذاکراتی ٹیم، بشمول ان کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکف، ایرانی وفد کے منتظر ہیں اور وہاں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ دراصل، چند گھنٹے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والا سیز فائر اسرائیلی جارحیت کی نذر ہو گیا، جس کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان پر دو سو سے زائد فضائی حملے کر کے تباہی مچا دی اور لبنانی شہریوں کو خاک و خون میں نہلا دیا۔ ایرانی حکام کا سخت مؤقف ہے کہ جب تک لبنان پر حملے بند اور اسرائیلی فوج کا انخلاء نہیں ہوتا، وہ جنیوا مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس نازک موڑ پر محسن نقوی ایرانی قیادت کو یہ باور کرانے گئے ہیں کہ اسرائیل دراصل ایک "پروووکیشن ٹریپ” کے ذریعے مسلم ممالک کو بکھلاہٹ کا شکار کر کے اس تاریخی امن عمل کو سبوتاج کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اس وقت بیک وقت ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت طویل المدتی ایل پی جی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے مشن پر سرگرمِ عمل ہے۔
اس انتہائی حساس عالمی مشن، اسرائیل کے جنگی عزائم اور جنیوا میں ہونے والی پسِ پردہ سفارت کاری کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے سینئر صحافی معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے لازمی دیکھیں




