حکومت بدترین اسکینڈل کی زد میں آگئی!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی سیاسی بساط پر ایک طرف جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلنے کے آثار نمایاں ہو رہے تھے، وہاں وفاقی دارالحکومت میں سنسنی خیز اندرونی کہانیاں اور ایک بدترین انتظامی بحران سامنے آیا ہے۔ مقتدر حلقوں میں گزشتہ کئی روز سے یہ افواہیں گرم تھیں کہ بجٹ کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف کو تبدیل کر کے کوئی نیا چہرہ لایا جا رہا ہے اور صدر آصف علی زرداری اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ مانگ رہے ہیں۔ ان تمام افواہوں پر فل اسٹاپ لگاتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے کڑا موقف اختیار کرتے ہوئے اسے ملک دشمن ایجنڈا قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ورکنگ ریلیشن شپ انتہائی مضبوط ہے اور یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ تاہم، دوسری جانب وفاقی حکومت ایک سنگین اسکینڈل کی زد میں آ چکی ہے جہاں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ کی جانب سے پیش کردہ ٹیلی کام بل سینیٹ میں پھنس گیا ہے۔ اس متنازع بل کے تحت کسی بھی نجی کمپنی کو شہریوں کی جائیداد پر زبردستی موبائل ٹاور کھڑا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور انکار کی صورت میں 5 کروڑ روپے جرمانے کا بھیانک قانون بنایا گیا ہے، جس پر اب شزہ فاطمہ کو وزارت سے برطرف کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اسی دوران، انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے جج منظر حسین گل نے کوٹ لکھپت جیل میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 9 مئی کے مغل پورہ مقدمے میں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی کو اس کیس میں بھی بری کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، راولپنڈی کے تھانہ چوترا اور چکری کے حدود میں قتل کے دو مختلف مقدمات میں عدالت نے چار ملزمان کو سزائے موت سنا کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا ہے۔ ان تازہ ترین سزاؤں کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مفاهمتی عمل اور مذاکرات شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس سنسنی خیز سیاسی صورتحال، ٹیلی کام بل کے پسِ پردہ حقائق اور ان فیصلوں کے ملکی سیاست پر پڑنے والے بھیانک اثرات پر مبنی معروف صحافی امداد سومرو کا تفصیلی اور تجزیاتی وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




