پنچایتی فیصلوں کی پناہ میں وحشت اور غلامی

تحریر:میندھرو کاجھروی
تھرپارکر اپنی قدیم روایات، ثقافت اور سماجی اقدار کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی معاملات میں پنچایتی فیصلوں نے انصاف کے بجائے ظلم اور وحشت کو فروغ دیا ہے۔ جب بھی کوئی سنگین سماجی یا فوجداری واقعہ پیش آیا، متعدد مقامات پر قانونی اداروں کے بجائے جرگوں اور پنچایتوں کے ذریعے فیصلے کیے گئے، جن میں متاثرہ فریق کو مکمل انصاف فراہم کرنے کے بجائے بااثر افراد کو تحفظ دیا گیا۔
پنچایتی نظام کا بنیادی مقصد سماجی تنازعات کو پرامن انداز میں حل کرنا ہوتا ہے، لیکن جب یہ فیصلے قانون کی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں تو انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بنتے ہیں۔ تھرپارکر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو پنچایتی فیصلوں کے نام پر دبایا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں جانوروں پر ظلم، خواتین پر تشدد اور زمینوں کے تنازعات جیسے معاملات میں بھی کئی بااثر حلقوں نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے جرگوں کا سہارا لیا ہے۔ ایسے فیصلوں سے نہ صرف مجرموں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں بلکہ متاثرہ افراد کے دلوں سے انصاف کی امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ جب کسی مجرم کو قانونی سزا کے بجائے معمولی جرمانہ یا معافی دے دی جاتی ہے تو اس سے معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
ایک مہذب اور قانون کی حکمرانی والے معاشرے میں ہر شہری کو برابر انصاف ملنا چاہیے۔ اگر سنگین جرائم کے فیصلے روایتی جرگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو ظلم اور وحشت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، عدلیہ اور سماجی تنظیمیں مل کر ان روایات کی حوصلہ شکنی کریں جو قانون اور انسانی حقوق کے منافی ہوں۔ تھرپارکر کے روشن مستقبل کے لیے لازم ہے کہ ہر قسم کے تشدد، ظلم اور بربریت کے واقعات کو قانون کے مطابق دیکھا جائے اور مجرموں کو سزا دی جائے۔ انصاف کی بالادستی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے معاشرے سے خوف، ناانصافی اور ظلم کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں تھرپارکر کے تعلقہ ڈاہلی کے گاؤں بنگل رند میں ایک بے زبان اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کا افسوسناک واقعہ نہ صرف جانوروں پر ہونے والے ظلم کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے بلکہ معاشرے کے اخلاقی زوال پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ایک ایسی معصوم مخلوق، جو پوری زندگی اپنے مالک اور انسانوں کی خدمت میں محنت کرتی رہتی ہے، اس کے ساتھ ایسی درندگی ہر حساس دل کو رنجیدہ کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک بے زبان جانور پر بھی رحم نہیں کرتے اور اسے اذیت دے کر اس کی آنکھیں نکال دیتے ہیں، تو پھر وہی لوگ اگر طاقتور وڈیروں یا بااثر افراد کے حامی اور کارندے ہوں تو عام اور غریب لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا؟ ایسے واقعات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرے میں آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو انسانیت، رحم اور قانون کے احترام سے عاری ہیں۔
جانوروں پر تشدد صرف ایک جانور کے خلاف جرم نہیں بلکہ ایک سماجی بیماری کی علامت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں جانوروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں، کیونکہ جانوروں پر ظلم کرنے والے افراد مستقبل میں انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ایسے واقعات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی تنظیموں پر فرض ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ اسی طرح والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو نئی نسل میں رحم، محبت اور انسانیت کے جذبات پیدا کرنے چاہئیں۔ اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کا یہ واقعہ صرف ایک جانور پر ظلم کی کہانی نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر معاشرے میں بے رحمی اور ظلم کو نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جانوروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام انسان بھی ان مظالم سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے اور مظلوم کا ساتھ دیا جائے، چاہے وہ انسان ہو یا کوئی بے زبان جانور۔ معاشرے میں قانون کی بالادستی امن، انصاف اور برابری کی ضمانت ہوتی ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ عدالتوں اور قانونی اداروں کی جانب سے دی گئی سزا کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خلاف بغاوت، مزاحمت یا تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ نہ صرف قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرتا ہے بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
قانونی سزا کا مقصد کسی فرد سے دشمنی کرنا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا، جرائم کی روک تھام کرنا اور متاثرہ فریق کو اس کا حق دلانا ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق قانونی فیصلوں کو ماننے یا مسترد کرنے لگے تو معاشرے میں افراتفری، انتشار اور طاقتور طبقوں کی اجارہ داری بڑھ جائے گی۔ بدقسمتی سے بعض علاقوں میں روایتی یا راجونی اثر و رسوخ کی وجہ سے قانونی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عام شہریوں کے انصاف کے نظام پر اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانونی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی بغاوت یا مزاحمت کو قانون کے دائرے میں لا کر روکا جائے۔ اسی کے ساتھ اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ فیصلے کریں تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ قانون کی حکمرانی ہی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ قانونی سزا کے خلاف بغاوت دراصل انصاف، امن اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف بغاوت ہے، جس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔



