بدین میں اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

بدين(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)محکمۂ تعلیم سندھ کی جانب سےNCHDاورBECSاساتذہ کے لیے عمر کی حد 55 سال مقرر کرنے، تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر، آئی ڈیز بند ہونے اور اساتذہ کو مستقل نہ کرنے کے خلاف بدین میں اساتذہ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور سندھ حکومت و محکمۂ تعلیم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ ان کے جائز مسائل فوری طور پر حل کرکے اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی ختم کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے NCHD اور BECS اساتذہ کے رہنماؤں ضلعی جنرل سیکریٹری سلیم جکھرو، تعلقہ صدر علی احمد خاصخیلی، سینئر نائب صدر محمد حنیف لنڈ، عبدالعزیز چانڈیو، غلام نبی چانگ اور دیگر نے کہا کہ NCHD اور BECS کے اساتذہ کئی برسوں سے انتہائی کم تنخواہوں اور مشکل حالات کے باوجود ایمانداری کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم افسوس کی بات ہے کہ آج تک انہیں مستقل نہیں کیا گیا، جس کے باعث ہزاروں اساتذہ اور ان کے خاندان شدید پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں رہنماؤں نے کہا کہ محکمۂ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کے لیے عمر کی حد 55 سال مقرر کرنا سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ دیگر سرکاری ملازمین کی طرح NCHD اور BECS اساتذہ کو بھی 60 سال تک ملازمت جاری رکھنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بند آئی ڈیز فوری طور پر بحال کی جائیں اور تنخواہیں ہر ماہ قومی شناختی کارڈ کے ذریعے آن لائن ادا کی جائیں تاکہ اساتذہ کو تنخواہوں کے حصول کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے اساتذہ رہنماؤں نے مزید مطالبہ کیا کہ NCHD اساتذہ کو مناسب گریڈ اور اسکیل دیا جائے جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ انہوں نے سندھ حکومت، محکمۂ تعلیم اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے دیگر سرکاری ملازمین کی طرح NCHD اور BECS اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور سندھ کابینہ یا سندھ اسمبلی سے بل منظور کراکے انہیں مستقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اساتذہ نے خبردار کیا کہ ان کے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع میں احتجاجی سلسلہ جاری ہے، اور اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو عیدالاضحیٰ کے بعد کراچی پریس کلب اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے ہزاروں اساتذہ دھرنا دیں گے اور احتجاج کا سلسلہ مطالبات کی مکمل منظوری تک جاری رکھا جائے گا

مزید خبریں

Back to top button