نوجوان ووٹرز پر کلہاڑی،رانا ثناء اللہ کی بڑی بلی تھیلے سے باہر!

​لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)مسلم لیگ(ن)کےسینیئررہنما اور مقتدر حلقوں کے قریبی سمجھے جانے والے رانا ثناء اللہ کے ایک حالیہ بیان نے ملکی سیاست اور نوجوان طبقے میں شدید تھرتھلی مچا دی ہے۔سینئر صحافی شکیل ملک نے اپنے تازہ ترین ولاگ میں انکشاف کیا ہے کہ پردے کے پیچھے تیار ہونے والی 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک انتہائی خطرناک اور غیر جمہوری بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق، اس نئی آئینی ترمیم کے تحت پاکستان میں ووٹ ڈالنے کی قانونی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

​انتخابی اور سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مبینہ تجویز دراصل پاکستان کے نوجوانوں کے جمہوری حق پر شب خون مارنے اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کی منظم کوشش ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں تقریباً ایک کروڑ 63 لاکھ سے زائد نئے نوجوان ووٹرز نے پہلی مرتبہ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا، جن کا بڑا جھکاؤ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف دیکھا گیا۔ اگر حکومت بجٹ سیشن کے بعد اس غیر سیاسی سوچ پر مبنی آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو 2029 کے اگلے عام انتخابات میں یہ کروڑوں نوجوان ملکی انتخابی عمل سے مکمل طور پر آؤٹ ہو جائیں گے۔ دنیا بھر میں جہاں ووٹرز کی عمر کم کرنے کے رجحانات ہیں، وہاں پاکستان میں نوجوانوں کو سسٹم سے بے دخل کرنے کی یہ کوشش نوجوان نسل کا ریاست پر اعتماد یکسر ختم کر سکتی ہے۔ اس اہم ترین سیاسی پیشرفت اور اس کے پسِ پردہ محرکات کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button