کشمیرمیں قانون کی رٹ بحال،ریاست دشمن قرار دیے گئے چاروں رہنما اشتہاری قرار

مظفر آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی اور مظاہروں کے پس منظر میں حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے اہم رہنماؤں کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کر دی ہے۔ وزارتِ داخلہ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق شوکت نواز میر، عمر نظیر کشمیری، سردار امان خان اور خواجہ مہران ارشد کو ریاست کا دشمن (Enemy of the State) قرار دیا گیا ہے۔ ان افراد کے بارے میں درست اطلاع فراہم کرنے والے کو ایک کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا، جبکہ مخبر کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد پر پولیس پر حملوں اور ریاست میں بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس سے قبل مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں احتجاج کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ مظاہرین کے مطالبات کے باوجود تشدد کا راستہ اختیار کرنا ناقابل قبول ہے۔ ادھر، سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے لیکن آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی حکم کے ذریعے ریاست کی بنیادی پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے۔ آزاد کشمیر کے عوام کی بڑی اکثریت ان ہڑتالوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے، جبکہ انتظامیہ نے نظم و نسق بحال کرنے کے لیے سیکیورٹی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button