حج کے موقع پر سعودی عرب پر ڈرون حملے! ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک ترین نقشہ پبلک!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے) یکم ذوالحج کے آغاز اور دنیا بھر سے 27 لاکھ سے زائد عازمینِ حج کی حجازِ مقدس میں موجودگی کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (UAE) پر ہونے والے پراسرار خودکش ڈرون حملوں نے پوری مسلم دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق، حج سیزن کے آغاز پر صبح سویرے عراق کی فضائی حدود سے آنے والے 3 خودکش (Kamikaze) ڈرونز کو سعودی ڈیفنس سسٹم نے فضا میں ہی انٹرسیپٹ کر کے تباہ کر دیا، جبکہ 24 گھنٹے قبل یو اے ای کے البرکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر بھی اسی نوعیت کا حملہ کیا گیا تھا۔
معظم فخر کے مطابق، بظاہر ان حملوں کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اس گریٹ گیم کے تانے بانے تہران کے بجائے تل ابیب (اسرائیل) سے ملتے ہیں۔ "نیویارک ٹائمز” کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں دو خفیہ ملٹری بیسز قائم کر رکھے ہیں، جنہیں امریکہ کی آشیرباد سے ایران اور خطے کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سازش کا سب سے ہولناک پہلو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر شیئر کیا گیا ایک متنازع نقشہ ہے، جس میں پورے مڈل ایسٹ پر امریکی پرچم لہراتے ہوئے، پاکستان اور افغانستان سمیت ایران کے تمام پڑوسی ممالک کی طرف سے تہران پر سرخ تیر (حملے کے اشارے) دکھائے گئے ہیں۔
تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ حج جیسے مقدس موقع پر ان حملوں کا اصل مقصد پوری مسلم دنیا کو ایران کے خلاف صف آرا کرنا ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر کھلے عام حملے کا جواز مل سکے اور ٹرمپ کے شیئر کردہ نقشے کو عملی شکل دی جا سکے۔ اس نازک صورتحال میں ایران اور سعودی عرب دونوں کو بلین گیم سے بچتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کی اس خوفناک ترین سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس ہائی پروفائل جیو پولیٹیکل ڈویلپمنٹ کی مزید اندرونی تفصیلات جاننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔




