مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے، 20 ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب روانہ!

​لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے) ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوج کی بڑی تعداد سعودی عرب پہنچ چکی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کا حوالہ دیتے ہوئے گوہر بٹ نے انکشاف کیا کہ پہلے سے موجود 8 ہزار فوجیوں کے بعد اب مزید 12 ہزار جوانوں پر مشتمل دستہ سعودی عرب روانہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہاں تعینات پاکستانی فوجیوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی جنگی طیارے بھی وہاں ہائی الرٹ ہیں۔ اگرچہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے جنگ ٹالنے کی امید موجود ہے، لیکن اسرائیل اور بھارت خطے میں آگ لگانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایران نے سعودی عرب پر حملہ کیا تو پاکستان اپنے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت دفاع کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑا ہوگا۔

​دوسری جانب، لاہور سے گرفتار ہونے والی بدنامِ زمانہ منشیات کی سرغنہ ‘پنکی ڈان’ (جس کا بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے کوئی تعلق نہیں) نے قانون کے شکنجے میں آتے ہی سیاست دانوں کے نام اگلنا شروع کر دیے ہیں۔ چار روزہ ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیشی کے موقع پر، چادر سے منہ ڈھانپے پنکی ڈان نے اونچی آواز میں چیختے ہوئے کہا کہ اس پر 20 سال پرانے جھوٹے مقدمات ڈالے جا رہے ہیں۔ تاہم، عدالت سے واپسی پر اس نے میڈیا کے سامنے چلا کر ایک مقتدر سیاست دان کا نام لیتے ہوئے پوچھا، "ہمارے پولیٹیشن راجہ پرویز کدھر ہیں؟”

​اگرچہ ملک میں راجہ پرویز اشرف ایک انتہائی معزز اور سابق وزیر اعظم ہیں اور اینکر کے مطابق ان کا اس نیٹ ورک سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا، لیکن پنکی کا یہ نام لینا مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے اس کا منہ بند کرانے کی کوشش کی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاطر مجرم خود کو بچانے کے لیے معاملے کو پولیٹیسائز کرنے کی چال چلتے ہیں۔ پنکی ڈان کا اب جیل ٹرائل منظور ہو چکا ہے اور یہ نیٹ ورک کتنا گہرا ہے، اس کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button