ایک بھی دھماکا ہوا تو افغان قیادت اڑا دی جائے گی

آباد / کابل(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان نے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے افغان سرحد پار کر کے وہ تباہ کن فضائی حملے کیے ہیں جنہوں نے طالبان حکومت کے ایوانوں میں لرزہ برپا کر دیا ہے۔ رات گئے شروع ہونے والے ان حملوں میں کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکہ میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
ادھر افغان طالبان نے ان حملوں کے بعد آپے سے باہر ہو کر اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ کو نشانہ بنانے کی گیدڑ بھبکیاں دی ہیں، جس پر پاکستان نے پہلی مرتبہ تاریـخ کا سخت ترین لہجہ اپناتے ہوئے دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ اگر اب پاکستان میں کوئی دھماکہ ہوا تو جواب افغانستان کے اندر "طالبان لیڈرشپ” کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ کوہاٹ میں دھماکہ خیز مواد سے لیس تین کواڈ کاپٹرز کے حملے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈرونز سرحد پار سے نہیں بلکہ یہاں موجود سلیپر سیلز کے ذریعے اڑائے گئے تھے۔ زوب سیکٹر میں بھی پاک فوج نے افغان طالبان کی چوکیوں پر قبضہ کر کے انہیں روسی ساختہ اسلحہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔




