وزیر اعظم کے سعودی دورے اور فضائی حدود کی بندش کی حقیقت

​اسلام آباد / ریاض(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان میں حالیہ چند گھنٹوں کے دوران تین بڑی پیش رفت سامنے آئی ہیں جن کا تعلق خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر ہنگامی دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ معمول سے ہٹ کر ہے اور اس کا مقصد سعودی عرب کی سیکیورٹی، توانائی کے معاملات اور مسلم دنیا کے لیے مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی طے کرنا ہے۔

​ اسی دوران لاہور اور اسلام آباد میں جنگی طیاروں (JF-17 اور J10C) کی پروازیں اور فضائی حدود کی وقتی بندش نے تجسس پیدا کیا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ پروازیں 23 مارچ کی پریڈ کی تیاریوں کا حصہ ہیں، جبکہ لاہور میں "نوٹم” (NOTAM) جاری کر کے فضائی حدود کو مخصوص اوقات کے لیے بند کیا گیا ہے تاکہ پاک فضائیہ کی لائیو فائرنگ ڈرلز اور فضائی دفاعی نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔

 ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے روس اور پاکستان کی قیادت سے گفتگو کے بعد ایک پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے وہ پرعزم ہیں، تاہم ایران پر مسلط کردہ موجودہ جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں، نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے اور جارحیت نہ ہونے کی ضمانت دی جائے۔

​تفصیلات کے لیے معظم فخر کا تجزیہ دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button