جنگی صنعت کا رہنما واشنگٹن ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (آن لائن)چینی میڈ یا نے ایک تبصرہ میں کہا ہے کہ جنگ سب سے بڑی صنعت ہے، اور اس صنعت کا رہنما اور بہترین مینجر یقیناً واشنگٹن ہے۔ جنگوں کے لیے اسلحے کی ضرورت ہوتی ہے اور تعمیر نو کے لیے ڈالرز درکار ہوتے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے بعد جنگوں کو کیوں نہ بھڑکایا جائے۔جب جنگ کے متاثرین انصاف اور مدد کے لیے عدالت گئے تو انھوں نے نظر اٹھا کر دیکھا کہ منصف تو وہی ہے جس نے جنگ کو شروع کیا ہے۔ لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ جو پیسہ آپ خرچ کر چکے ہیں، وہ آپ کا پیسہ ہے، لیکن جو آپ نے جمع کر رکھا ،پتہ نہیں کس کی دولت ہے۔اس مرتبہ روس کو سوئفٹ سسٹم سے نکالنے، روسی املاک کو منجمد کرنے وغیرہ جیسے اقدامات دیکھ کر میرا اس کہاوت پر یقین مزید پختہ ہوا،بشرط یہ کہ موجودہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے امریکی ڈالر کی بالادستی برقرار رہے۔ جب آپ کے ملک کی اشرافیہ اور سیاستدانوں کی دولت اور تقدیر امریکہ کے ہاتھ میں ہے تو ملک کی خود مختاری کیسے ممکن ہے؟روسی بلیوں اور کتوں، موسیقی، آرٹ وغیرہ کا بائیکاٹ،ایک جانب یہ ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی جنگ کے ذریعے لوگوں کو پہلی مرتبہ جنگ کی ہولناکیوں اور ظلم و بربریت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے (کچھ لوگوں کی سوشل میڈیا پر اجارہ داری اور ہیرا پھیری کو ایک طرف چھوڑ دیں)۔ یوں عام لوگوں میں جنگ مخالف شدید جذبات کو ابھارا گیا ہے۔ دوسری جانب اس جذبے کا استحصال کیا گیا اور رفتہ رفتہ اکثریت کی تشدد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ من مانیوں پر مبنی بہت سی پابندیاں دراصل لوگوں کی اس تشدد سے بچنے اور زندہ رہنے کی خواہش کا مظہر ہیں۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button