سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب ہوجاؤں گا: نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ

نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کا ایسا راستہ نکال لیں گے

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام پر رضامند ہوئے بغیر بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، نیتن یاہو نے ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی ٹی وی چینل 14 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے دو اہم اسٹریٹجک اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان میں پہلا ہدف ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے خطرے کا خاتمہ ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا جنگ کے خاتمے کے لیے حالات سازگار ہیں یا نہیں۔ ان کے بقول، ایران کی فردو میں واقع جوہری تنصیب پر "بہت سنجیدہ حملہ” کیا گیا ہے، اور اسرائیل وہ تمام اقدامات مکمل کر رہا ہے جو ضروری تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی اپنی کارروائیوں سے ایک دوسرے کو پہلے سے آگاہ رکھا۔ ان کا کہنا تھا "میں نے انہیں حیران نہیں کیا، وہ ہماری کارروائی سے مکمل طور پر باخبر تھے، اور میں بھی ان کی کارروائی سے بخوبی آگاہ تھا۔”

نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کا ایسا راستہ نکال لیں گے جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط شامل نہ ہو۔

واضح رہے کہ سعودی عرب متعدد مرتبہ اس مؤقف کا اعادہ کر چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اسی وقت بحال کیے جائیں گے جب فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آئے گی۔

مزید خبریں

Back to top button