پیپلز پارٹی بدین سٹی کے سابق جنرل سیکریٹری اسماعیل پرھیاڑ انتقال کرگئے

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ پی کے)
پیپلز پارٹی بدین سٹی کے سابق جنرل سیکریٹری محمد اسماعیل پرھیاڑ طویل عرصے سے علیل رہنے کے بعد گزشتہ روز انڈس سول اسپتال بدین میں انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ پیر عالی شاہ عیدگاہ میں ادا کی گئی، جس میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں، شہریوں اور پرہیار برادری کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انہیں شاہ قادری قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ان کے پسماندگان میں بیٹے منصور پرھیاڑ بلاول پرھیاڑاور شہمیر پرھیاڑ شامل ہیں جن سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے یاد رہے کہ محمد اسماعیل پرھیاڑ ایک محنت کش کارکن تھے اور مارشل لا کے دور میں، جب پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنما اور جاگیردار روپوش ہو گئے تھے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دولت کمانے والے لوگ چھپ گئے تھے، اس وقت اسماعیل پرہیار ان کارکنوں میں شامل تھے جنہوں نے شہید بھٹو کو دی گئی سزائے موت اور مارشل لا کے خلاف، جمہوریت اور 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، جیلیں کاٹیں اور سختیاں برداشت کیں1983 میں تحریک بحالی جمہوریت کے دوران اس وقت کے آمر جنرل ضیاء الحق ایک روزہ دورے پر بدین آئے اور اریگیشن ریسٹ ہاؤس میں مقامی عمائدین سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا تھا اور سپاف و پیپلز پارٹی کے متعدد کارکن گرفتار کیے جا چکے تھے۔ اسماعیل پرھیاڑ کی قیادت میں گدھوں کا ایک جلوس نکالا گیا جو جنرل ضیاء کے پروگرام میں داخل ہو گیا۔ گدھوں پر جنرل ضیاء کے خلاف نعرے درج تھے اور وہ “جیئے بھٹو” کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث جنرل ضیاء کا پروگرام درہم برہم ہو گیا۔ بعد ازاں اسماعیل پرھیاڑ اور ان کے خاندان کو سخت عتاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس احتجاج کو بی بی سی نے بھی نمایاں کوریج دی تاہم 1993 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے اور پارٹی پر ایک مخصوص گروہ کے قبضے کے بعد اسماعیل پرھیاڑ جیسے مخلص کارکنوں کو نظرانداز کر دیا گیا،گویا وہ کبھی پارٹی کا حصہ ہی نہ رہے ہوں۔ ان کی نماز جنازہ میں بھی پیپلز پارٹی کی ضلعی تنظیم کے کسی عہدیدار یا منتخب نمائندے نے شرکت نہیں کی محمد اسماعیل پرھیاڑ نے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزاری اور طویل عرصے تک بیماریوں سے لڑتے رہے، مگر پارٹی کی مقامی قیادت یا بدین پر مسلط غیر مقامی رہنماؤں میں سے کسی نے بھی ان کی خبرگیری نہ کی۔ انہوں نے شہید بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے ایک وفادار کارکن ہونے کےح باوجود کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اسماعیل پرھیاڑ اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ، ایک بیٹی اور تین بیٹے سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔



