گجرات،سعودی پلٹ نے چھوٹے بھائی کو سرپرائز کے بہانےبلاکر قتل کردیا،لرزہ خیز واردات نے دل دہلادیئے

گجرات (جانو ڈاٹ پی کے)گجرات میں بھائی کے ہاتھوں بھائی کے مبینہ قتل کی لرزہ خیز واردات نے اہلِ خانہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس کے مطابق سعودی عرب میں مقیم بڑے بھائی محمد بلال نے اپنے چھوٹے بھائی محمد سفیان کو مبینہ طور پر سرپرائز دینے کے بہانے گجرات شہر بلایا، اس کے ساتھ کھانا کھایا اور پھر واپسی پر ایک ویران مقام پر لے جا کر قتل کردیا۔ تفتیش میں سامنے آنے والے سی سی ٹی وی شواہد نے پولیس کے مطابق اس واردات کی گتھی سلجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ 17 اکتوبر کو پیش آیا، جب گجرات کے گاؤں روپیری میں رہنے والے 24 سالہ محمد سفیان کو سعودی عرب میں موجود اپنے بڑے بھائی بلال کی واٹس ایپ کال موصول ہوئی۔ بلال نے اسے فوری طور پر گجرات شہر پہنچنے کو کہا اور ایک خاص شخص سے ملاقات کا سرپرائز دینے کا بتایا۔ سفیان موٹرسائیکل پر روانہ ہوا اور شہر میں مقررہ مقام پر پہنچ کر اپنے ہی بھائی سے ملا۔
دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا اور گپ شپ کے بعد شام کو گھر واپسی کے لیے موٹرسائیکل پر روانہ ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات فیصل شہزاد کے مطابق دریکڑی روڈ کے ایک ویران مقام پر بلال نے مبینہ طور پر رفع حاجت کے بہانے موٹرسائیکل رکوائی اور پھر چھری سے سفیان کی گردن پر وار کرکے اسے قتل کردیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ واردات کو ڈکیتی کا رنگ دینے کے لیے ملزم مقتول کا موبائل فون اور موٹرسائیکل بھی ساتھ لے گیا۔
پولیس کے مطابق بلال نے موٹرسائیکل کوٹلہ میں پنجاب موٹرز کے باہر کھڑی کی اور لاہور فرار ہوگیا۔ اس دوران اہلِ خانہ کو یہی بتایا گیا کہ بلال سعودی عرب میں ہے۔ بھائی کے قتل کی اطلاع ملنے پر اس نے لاعلمی ظاہر کی اور مبینہ طور پر اہلِ خانہ سے کہا کہ اس کی پاکستان واپسی تک تدفین نہ کی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم دراصل قتل سے پہلے ہی پاکستان پہنچ چکا تھا، تاہم اس نے اگلی صبح گاؤں پہنچ کر سعودی عرب سے ہنگامی واپسی کا تاثر دیا اور جنازے میں بھی شرکت کی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج نے کیسے کھولا راز؟
تفتیشی افسر اور ایس ایچ او تھانہ دولت نگر احسان لطیف کے مطابق پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی اور سیف سٹی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا۔ فوٹیج سے معلوم ہوا کہ سفیان دوپہر 3 بج کر 42 منٹ پر میجر عزیز بھٹی شہید اسپتال کے سامنے پہنچا اور تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ تک کسی کا انتظار کرتا رہا۔ شام 5 بج کر 27 منٹ پر ایک شخص وہاں آیا، جس سے سفیان نے گرم جوشی سے ملاقات کی۔ پولیس نے اس شخص کی شناخت مقتول کے بڑے بھائی بلال کے طور پر کی۔
پولیس کے مطابق دونوں بھائی بعد میں ایک ریستوران گئے اور پھر موٹرسائیکل پر روانہ ہوئے۔ دریکڑی روڈ کے ویران علاقے میں دونوں تقریباً آدھے گھنٹے تک کیمروں کی نظر سے اوجھل رہے، لیکن واپسی کی فوٹیج میں بلال اکیلا موٹرسائیکل چلاتا دکھائی دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سفیان کہیں نظر نہیں آیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق جائے وقوعہ سے چھری بھی برآمد کی گئی، جس پر مبینہ طور پر بلال کے فنگر پرنٹس پائے گئے۔ تصدیق کے لیے آلۂ قتل پنجاب فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیا گیا۔
جائیداد کا تنازع قتل کی وجہ بنا؟
مقتول اور ملزم کے والد خالد محمود نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان وراثتی جائیداد کی تقسیم پر اختلاف تھا۔ ان کے مطابق خاندان کے چار مرلے کے مکان کی تقسیم کے معاملے پر انہوں نے بلال کو گاؤں سے باہر 18 مرلے زرعی زمین دے دی تھی اور کہا تھا کہ اب مکان میں اس کا حصہ نہیں ہوگا۔
خالد محمود کا دعویٰ ہے کہ بلال سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور اس کا چھوٹا بھائی سفیان اس کے وراثتی حق کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ والد کے مطابق انہیں کبھی گمان بھی نہیں تھا کہ معاملہ اس انتہائی صورت اختیار کرلے گا۔
والد نے بتایا کہ سفیان کے جنازے کے دوران بلال سب کے ساتھ گلے مل کر روتا اور نامعلوم قاتلوں سے بدلہ لینے کی بات کرتا رہا۔ دو روز بعد جب پولیس بلال کو تفتیش کے لیے لے گئی تو اہلِ خانہ کو بھی اس پر شک نہیں تھا۔ خالد محمود کے مطابق تھانے میں جب انہوں نے بلال کو ہتھکڑیوں میں دیکھا تو ان کے لیے یہ حقیقت قبول کرنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ دورانِ تفتیش بلال نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے جائیداد کی تقسیم پر ناانصافی کو وجہ بتایا۔ تاہم مقدمے کی ابتدائی ایف آئی آر مقتول کے والد نے نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کروائی تھی۔
ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ عدالت نے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
خالد محمود کے مطابق بلال گزشتہ ڈیڑھ سال سے سعودی عرب میں ٹرالر چلا رہا تھا، جبکہ سفیان ملائیشیا میں دو سال گزارنے کے بعد پاکستان واپس آیا تھا اور یورپ جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دو بیٹوں کے اس المناک انجام پر والد کا کہنا تھا کہ ان کی دنیا اجڑ گئی ہے؛ ایک بیٹا قتل ہوگیا اور دوسرا جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔



