لڑکی نجانے” کیوں” لڑکوں سی نہیں ہوتی؟ سائنس کا دلچسپ جواب

راجہ نوید
’’لڑکی نجانے کیوں لڑکوں سی نہیں ہوتی؟‘‘یہ گیت سنتے ہی ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر لڑکیوں اور لڑکوں کی سوچ، جذبات اور رویوں میں فرق کیوں نظر آتا ہے؟ کیا اس کی وجہ صرف پرورش اور ماحول ہے یا قدرت نے ان کے دماغ میں بھی کچھ فرق رکھے ہیں؟ جدید سائنس کے مطابق مردوں اور عورتوں کے دماغ میں بعض حیاتیاتی اور جینیاتی فرق موجود ہیں، جو ان کی ذہنی صحت اور دماغ کے کام کرنے کے انداز پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق مردوں اور عورتوں کے دماغ میں بعض جینز کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ تاہم یہ فرق صرف جینیات تک محدود نہیں۔ ہارمونز، عمر، ماحول، تربیت اور زندگی کے تجربات بھی انسانی سوچ اور شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ تمام مرد ایک جیسا سوچتے ہیں یا تمام عورتوں کا رویہ ایک جیسا ہوتا ہے۔
ذہنی صحت کے شعبے میں بھی مردوں اور عورتوں کے درمیان کچھ فرق دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر آٹزم اور توجہ کی کمی کے عارضے، جنہیں اے ڈی ایچ ڈی کہا جاتا ہے، مردوں میں زیادہ تشخیص ہوتے ہیں، جبکہ ڈپریشن اور بے چینی کے مسائل خواتین میں زیادہ رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ الزائمر کی بیماری میں بھی خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں، اگرچہ اس میں عمر اور دیگر عوامل کا کردار بھی اہم ہے۔ سائنس دان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان فرقوں میں جینیات، ہارمونز اور معاشرتی حالات کا کتنا حصہ ہے۔
دماغ کے خلیوں اور جسم کے دفاعی نظام کے درمیان بھی گہرا تعلق ہے۔ بعض تحقیقات میں اشارے ملے ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں جینز کی سرگرمی اور بیماریوں کے خلاف جسمانی ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق مستقبل میں ذہنی اور اعصابی بیماریوں کی بہتر تشخیص اور علاج میں مدد دے سکتی ہے۔ ماضی میں طبی تحقیق کے بعض شعبوں میں خواتین کو کم نمائندگی دی گئی، لیکن اب ادویات کے اثرات اور مضر اثرات کو سمجھنے کے لیے دونوں جنسوں کے حیاتیاتی فرق پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
اس تحقیق کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ مرد عورت سے زیادہ ذہین ہے یا عورت مرد سے زیادہ جذباتی۔ حقیقت یہ ہے کہ دماغ کے حیاتیاتی فرق انسانی شخصیت کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔ تربیت، تعلیم، ماحول اور ذاتی تجربات بھی انسان کی سوچ اور صلاحیتوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ کوئی لڑکی بہترین فیصلہ ساز ہو سکتی ہے اور کوئی لڑکا غیر معمولی حساسیت رکھ سکتا ہے۔
تو پھر گیت کا سوال کہ لڑکی لڑکوں جیسی کیوں نہیں ہوتی، سائنس کی روشنی میں کیا جواب پاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ دونوں میں کچھ حیاتیاتی فرق ضرور ہیں، لیکن ہر فرد کی شخصیت منفرد ہوتی ہے۔ جدید سائنس ان فرقوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ذہنی صحت کے مسائل کی بہتر تشخیص اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔ آخرکار، انسانی دماغ کا یہ راز صرف مرد اور عورت کے فرق کو سمجھنے کا نہیں، بلکہ انسان کو بہتر طور پر جاننے کا سفر بھی ہے۔



