بدین ضلع کے نواحی شہر ڈیئی میں سندھی ھاری تحریک کے احتجاجی مظاہرہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/پی کے)بدین ضلع کے نواحی شہر ڈیئی میں سندھی ھاری تحریک کے احتجاجی مظاہرہ، زرعی اجناس کے نرخ مقرر کرنے اور پانی کی فراہمی کا مطالبہ گندم 5 ہزار، گنا 700، اری سکس چاول 4 ہزار اور سپر باسمتی 6 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ؛ ڈیزل پیٹرول کھاد زرعی دوائون کی قیمت فوری کم کی جائیں تفصیل کے مطابق پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی ملک گیر کال پر سندھی ھاری تحریک کی جانب سے بدین کے نواحی شہر ڈیئی میں احتجاجی مظاہرا کیا گيا مظاہرین نے زرعی اجناس کے مناسب نرخ مقرر کرنے، ٹیل ایریاز تک آبپاشی کا پانی پہنچانے، زرعی اخراجات کم کرنے اور ہاریوں کو درپیش مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا مظاہرہ کی قیادت سندھی ہاری تحریک کے نور محمد خاصخیلی جیون کمار کولهی مھران درس پرشوتم مویوں کولهی آچار کولهی ستو کولهی اور دیگر رہنماؤں نے کی احتجاجی مظاہروں میں مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی کم از کم امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی من، گنے کی قیمت 700 روپے فی من، اری سکس چاول کی قیمت 4 ہزار روپے فی من اور سپر باسمتی چاول کی قیمت 6 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کاشت سے پہلے کیا جائے اور سرکاری خریداری کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ مل سکے رہنماؤں نے زرعی اخراجات میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کاشتکاروں پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی ضروریات کی قیمتوں کو مناسب سطح پر لانے اور کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں ہاری کارڈ کی تقسیم کے حوالے سے رہنماؤں نے کہا کہ شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے اور سروے نمبروں کی جانچ کے ذریعے حقیقی کاشتکاروں کی شناخت یقینی بنائی جائے، تاکہ سرکاری سہولتیں مستحق ہاریوں تک پہنچ سکیں احتجاج کے دوران سندھ کے رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ زرعی اجناس کے مناسب نرخ، آبپاشی کے پانی کی منصفانہ تقسیم، زرعی اخراجات میں کمی اور ہاری کارڈ کی شفاف تقسیم سمیت کاشتکاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے احتجاج مین مطالبا کیا گیا کہ سندھ کی اور نئے صوبون کا رینگٹ ختم کیا جائے



