طارق فضل چودھری کاخیبرپختونخوا میں معدنیات کے ہزاروں لائسنسز کی تحقیقات کااعلان

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنیات سے جوڑنے والے بعض سیاست دانوں کا مؤقف قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے، جبکہ تعمیر و ترقی کے لیے جامع اور مربوط پروگرام بھی ترتیب دیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس عمل کے دوران مقامی آبادی کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اضلاع میں صوبائی حکومت کی عمل داری قائم کی جائے گی اور پورے خیبرپختونخوا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ طارق فضل چوہدری نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سبوتاژ نہ کیا جائے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر بنایا، تاہم ان کے بقول اپوزیشن کی اکثریت نہیں چاہتی کہ محمود اچکزئی اس عہدے پر برقرار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی بھی محمود اچکزئی کی کامیابی کو فارم 47 کی فتح قرار دے چکی ہے، اس لیے انہیں پارلیمنٹ میں اس حوالے سے وضاحت دینی چاہیے۔طارق فضل چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کریں اور اس جنگ میں ساتھ دیں۔



