غریب بچوں کو بھی ایچی سن جیسے اداروں میں تعلیم کے مواقع ملنے چاہئیں، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش اسکول کا افتتاح کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مالی مشکلات کی وجہ سے کسی ذہین بچے کو معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کے نوجوانوں میں اپنی زندگیاں سنوارنے اور ملک کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، دانش اسکولز کا مقصد غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔

اسلام آباد میں دانش اسکول کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دانش اسکولز کے طلبا کی کامیابیاں انتہائی متاثر کن ہیں۔ نوجوان اپنی ذہانت، محنت اور انتھک کوششوں سے پاکستان کو اقوام عالم میں نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غریب خاندانوں کے بچے ایچی سن جیسے معروف اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، اسی احساس اور وژن کے تحت 2010 میں دانش اسکول جیسے تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد بچوں کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا تھا تاکہ غریب خاندانوں کے بچے بھی اشرافیہ کے بچوں کی طرح آگے بڑھ سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ آج وزیراعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک خادم کی حیثیت سے تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔ دانش اسکولز کے حوالے سے پیش کی جانے والی دستاویزی فلموں اور طلبا کے تاثرات نے دلوں کو چھو لیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک بچی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید اور حوصلے کی روشن مثال ہے، جبکہ خصوصی صلاحیتوں کی حامل اس بچی کی داستان غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے محنت کش والدین کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین شدید گرمی اور سردی میں محنت کرکے حلال روزی کماتے ہیں، اس لیے مالی مشکلات کسی بچے کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔

شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا کہ دانش اسکولز کو ملک کے معروف تعلیمی اداروں سے بھی بہتر بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق ان اسکولوں میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ منصوبہ پنجاب سے نکل کر اب پورے پاکستان میں پھیل رہا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ انصاف، میرٹ اور مساوی مواقع پر مبنی معاشرے کا قیام پاکستان کے بنیادی نظریے کا حصہ ہے۔ معیاری تعلیم تک سب کی رسائی یقینی بنانا ملک کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

مزید خبریں

Back to top button