خیبرپختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی لگانا پڑی،دھمکیاں دی گئیں،انہوں نے خونریزی کا پروگرام بنایا ہوا تھا،وزیر اعظم

گوجرانوالہ (جانو ڈاٹ پی کے)وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی نے دن رات محنت کرکے بات چیت کی، لیکن دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
گوجرانوالہ میں بشیر ورک کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سہیل آفریدی کو واضح پیغام دیا تھا کہ صوبے کی ترقی کے لیے جو وسائل درکار ہوں گے، وفاق فراہم کرے گا، تاہم دہشت گردی کے خلاف مل کر چلنا ہوگا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیر اور وزیراعلیٰ سے بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی بات کی گئی، لیکن ان کے بقول ملک کو ہر لحاظ سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اور آئے روز دھمکیاں دی گئیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے مذاکراتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے نظام کو دھرنوں کے ذریعے مفلوج کرنے کے بجائے مسائل کا حل بات چیت اور تعاون سے نکالنا چاہیے۔



