مولانا فضل الرحمان کے بغیر بھی حکومت چلے گی، ادارے مضبوط کریں گے، فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بغیر بھی حکومت بن گئی ہے اور کامیابی سے چلے گی، ہماری ترجیح صوبے میں امن کا قیام اور اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سلجھے ہوئے سیاستدان ہیں، تاہم ان کی دو روز قبل کی تقریر سے مایوسی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا خود ماضی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث اپنے گھر نہ جا سکنے کا ذکر کرتے رہے ہیں، اس لیے اب گورنر راج کی مخالفت پر ان کا مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ اگر گورنر راج غلط ہے تو ایل ایف او کو کس بنیاد پر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ معدنی وسائل کے مؤثر استعمال سے ملک میں خوشحالی لائی جا سکتی ہے، اس لیے اس شعبے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ماضی میں جن لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے، ان کا سیاسی باب بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے مولانا کو دعوت دی کہ وہ صوبے میں امن کے قیام اور عوام کی بہتری کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ ان کے مطابق عوام کو سیاسی کشمکش کے بجائے امن و امان چاہیے۔
سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سیکیورٹی کے لیے چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور خیبرپختونخوا میں بھی تمام سیکیورٹی اداروں کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلے اب ختم ہو چکے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لے کر کارروائی کی جائے گی اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے جائیں گے۔
مراد سعید سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ وہ عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی تھے، جس کے باعث ماضی میں ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جا رہی تھی۔



