سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی دو فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کر لیں

بیجنگ (ویب ڈیسک) آسٹریا اور چین کے سائنسدانوں نے وقت کی پیمائش کی ٹیکنالوجی میں اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی پہلی دو فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کر لی ہیں۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں وقت کی پیمائش کو مزید درست بنانے اور کائنات کے پیچیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے نئے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی دو الگ الگ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور چین کی شنگھوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے آزادانہ طور پر کام کرتے ہوئے تقریباً ایک ہی وقت میں یہ کامیابی حاصل کی۔ محققین کے مطابق دونوں نیوکلیئر گھڑیاں فی الحال کارکردگی کے لحاظ سے جدید ترین ایٹمی گھڑیوں کے ہم پلہ ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر گھڑی کو جوہری توانائی، نیوکلیئر فیوژن یا ایٹمی توانائی کے منصوبوں سے جوڑنا درست نہیں۔ اسے نیوکلیئر گھڑی اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وقت کی پیمائش کے لیے ایٹم کے بیرونی حصے میں موجود الیکٹرانز کے بجائے اس کے مرکزے (نیوکلیئس) کی توانائی کی سطحوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے کام لیتی ہے۔
دونوں تحقیقی ٹیموں نے اس مقصد کے لیے تھوریم-229 کی ایک نایاب قسم استعمال کی، جسے کیلشیم فلورائیڈ کے ٹھوس کرسٹل میں محفوظ کیا گیا۔ ویانا کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر تھورسٹن شم کے مطابق سائنسدان تقریباً نصف صدی سے نیوکلیئر گھڑی تیار کرنے کے تصور پر کام کر رہے تھے، جبکہ ان کی ٹیم نے 2008 میں اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کیا تھا۔
چینی ٹیم کے سربراہ شی چیان ڈنگ کا کہنا ہے کہ دو آزاد تحقیقی ٹیموں کا مختلف تکنیکی طریقوں کے ذریعے تقریباً ایک ہی وقت میں ملتے جلتے نتائج حاصل کرنا اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ یہ سائنسی تصور قابلِ اعتماد بنیاد رکھتا ہے۔
روایتی ایٹمی گھڑیاں، جن کا بنیادی تصور 1949 میں متعارف کرایا گیا تھا، سیزیم یا اسٹرونشیم جیسے عناصر کے ایٹموں میں الیکٹرانز کی توانائی کی سطحوں میں تبدیلیوں کو استعمال کرتے ہوئے وقت کی پیمائش کرتی ہیں۔ اس عمل میں لیزر یا مائیکرو ویوز کے ذریعے الیکٹرانز کو مختلف توانائی کی حالتوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور مخصوص فریکوئنسی کی مدد سے وقت کا تعین کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس نیوکلیئر گھڑی میں ایٹم کے مرکزے میں موجود پروٹونز اور نیوٹرانز کی توانائی کی سطحوں میں تبدیلیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ ایٹمی مرکزہ بیرونی الیکٹرانز کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس لیے بیرونی برقی مقناطیسی اثرات اور درجہ حرارت میں معمولی تبدیلیاں اس پر نسبتاً کم اثر ڈال سکتی ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق یہی خصوصیت مستقبل میں نیوکلیئر گھڑیوں کو زیادہ مستحکم، نسبتاً چھوٹا اور غیر معمولی حد تک درست بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ موجودہ جدید ایٹمی گھڑیاں بھی انتہائی درست ہیں اور اربوں سال کے دوران ان میں تقریباً ایک سیکنڈ کے برابر معمولی فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
انتہائی درست وقت کی پیمائش سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹمز، جی پی ایس، انٹرنیٹ، مواصلاتی نیٹ ورکس اور مالیاتی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مستقبل میں نیوکلیئر گھڑیاں موجودہ ایٹمی گھڑیوں کے مقابلے میں زیادہ درست اور مستحکم ثابت ہوتی ہیں تو ان شعبوں میں مزید بہتری ممکن ہوسکے گی۔
اس سائنسی کامیابی کی اہمیت صرف وقت کی پیمائش تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق انتہائی حساس نیوکلیئر گھڑیاں بنیادی طبیعیات، عمومی نظریۂ اضافیت کے دقیق مطالعے اور کائنات میں موجود پراسرار مادے، یعنی ڈارک میٹر، کے ممکنہ سراغ تلاش کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
یوں دنیا کی پہلی فعال نیوکلیئر گھڑیوں کی تیاری وقت کی پیمائش کی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں سائنسی تحقیق اور کائنات کے بنیادی قوانین کو سمجھنے کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔



