​دی اورنج پلیگ: ٹرمپ کا عریاں سنہری مجسمہ اور پاکستان کا سیاہ ننگا سچ!

نہال معظم

​فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں قائم یورپی پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر 6 اکتوبر 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک انتہائی عجیب، متنازع اور ننگا مجسمہ عارضی طور پر نصب کیا گیا جس نے عالمی میڈیا اور سیاست میں ہلچل مچا دی۔ 23 کیرٹ سونے کے ورق سے ڈھکے اس ساڑھے آٹھ فٹ بلند شاہکار کو ڈینش مجسمہ ساز جینس گالشیوٹ نے تخلیق کیا ہے، جسے "دی اورنج پلیگ” اور "دی کنگ آف ان جسٹس” جیسے تیکھے نام دیے گئے ہیں۔ اس مجسمے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بنا کپڑوں کے ایک انتہائی لاغر، کمزور اور ننگے انسان کے کندھوں پر ننگے دھڑ سوار دکھایا گیا ہے، جبکہ ٹرمپ کے ایک ہاتھ میں عدل کا ترازو اور دوسرے میں گالف کلب موجود ہے اور ان کے پیروں کے پاس زمین کی شکل کا گالف بال رکھا گیا ہے۔ اس پر طنز کا عروج اس کی بنیاد پر کندہ وہ جملہ ہے جو انیسویں صدی کے نامور روسی مصنف لیو ٹالسٹائے کے مقولے سے لیا گیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ "میں ایک انسان کی پیٹھ پر سوار ہوں، وہ میرے بوجھ سے ڈوب رہا ہے، میں اس کی مدد کے لیے سب کچھ کروں گا سوائے اس کی پیٹھ سے نیچے اترنے کے۔” ڈینش آرٹسٹ نے اس تیکھے طنز کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح امریکی صدر اپنی ماحولیاتی پالیسیوں، فوسل فیول کو فروغ دینے کے اقدامات اور خودغرضانہ فیصلوں کا بوجھ غریب دنیا پر ڈال کر خود سونے میں لپٹے عیش کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کا دعویٰ دنیا کی مدد کرنے کا ہے۔

​اس نمائش کی سب سے دلچسپ بات وہ ایک ہزار سے زائد تھری ڈی پرنٹڈ رنگ برنگے چھوٹے مجسمے تھے جو بڑے مجسمے کے ارد گرد رکھے گئے اور یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور عام لوگوں میں مفت بانٹے گئے۔ آرٹسٹ نے ان مجسموں کا فلسفہ ہنس کرسچن اینڈرسن کی مشہور عالمی کہانی "بادشاہ کے نئے کپڑے” (The Emperor’s New Clothes) سے اخذ کیا ہے۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک خود پسند بادشاہ کو نئے اور قیمتی کپڑے پہننے کا شدید شوق ہوتا ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر دو چالاک ٹھگ اسے بے وقوف بناتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایسا سحر انگیز لباس تیار کر رہے ہیں جو صرف دانشمندوں کو نظر آتا ہے جبکہ بے وقوف اور نااہل لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ بادشاہ، اس کے وزرا اور پوری درباری اشرافیہ اپنی رسوائی اور نااہلی چھپانے کے لیے جاہل کہلانے کے ڈر سے جُھوٹی تعریفیں کرتے رہتے ہیں کہ لباس واقعی بہت خوبصورت ہے، یہاں تک کہ بادشاہ بغیر کسی کپڑے کے محض خیالی لباس پہن کر شہر میں جلوس نکالتا ہے، اور تمام لوگ ڈر کے مارے خاموش رہتے ہیں حتیٰ کہ ایک معصوم بچہ سچ بول پڑتا ہے کہ "بادشاہ تو ننگا ہے!” آرٹسٹ نے اسی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے ان چھوٹے مجسموں کو احتجاجی یادگار قرار دیا تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر یاد رکھیں کہ حاکم اور طاقتور طبقات خود کو سونے، القابات اور عیش و عشرت کے جتنے بھی خیالی لباسوں میں چھپا لیں، سچائی کی نظر میں وہ ننگے ہی ہوتے ہیں۔ ان چھوٹے مجسموں کو نومبر میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی کلائمیٹ کانفرنس کے مندوبین میں بھی بانٹا جانا ہے۔

​یورپی پارلیمنٹ میں 6 سے 8 اکتوبر 2026 تک جاری رہنے والی اس تین روزہ نمائش پر زبردست ردِعمل دیکھنے کو ملا؛ جہاں سیاحوں اور عام لوگوں نے اس کے ساتھ سیلفیاں بنائیں اور سیاسی طنز کو سراہا، وہیں یورپی اراکینِ پارلیمنٹ نے بھی اسے جمہوریت اور آزادیِ اظہار کا حسن قرار دیا۔ اس نمائش کو اسپانسر کرنے والے ڈینش رکنِ پارلیمنٹ پر کلاؤسن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کوئی سیاست دان پارلیمنٹ میں اتنی تنقید برداشت کرنے کا ظرف نہیں رکھتا تو اسے سیاست کا حصہ ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ پورا واقعہ جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی پالیسیوں کی عالمی سطح پر شدید پرمزاح چھترول کرتا ہے، وہی دوسری طرف یہ پاکستان کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور مقتدر اشرافیہ کے لیے ایک بڑا اور شفاف آئینہ ہے۔ یورپ کی جمہوریت میں اتنی لچک اور وسعتِ ظرف موجود ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کو پارلیمنٹ کے ایوان کے اندر ننگا دکھا کر اس کی ہٹ دھرمی کا تماشا بنایا جاتا ہے، لیکن اسے نہ تو توہینِ عدالت یا توہینِ ادارہ قرار دیا جاتا ہے اور نہ ہی آرٹسٹ کو جیل میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں پاکستانی اشرافیہ کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی عام شہری، صحافی یا فنکار حکمرانوں کے غلط فیصلوں، مہنگائی یا شاہانہ خرچوں پر ذرا سا بھی طنز یا ٹویٹ کر دے یا کوئی معمولی کارٹون بنا دے، تو ان کی نازک انا کو فوری ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔

​البتہ یہاں یہ بات واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ کوئی بھی محبِ وطن یا باہم بیدار شہری یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان میں آزادیِ اظہار یا آرٹ کے نام پر ایسے بے ہودہ، عریاں مجسمے گھڑے جائیں یا غیر اخلاقی حدیں پار کی جائیں، کیونکہ ہر معاشرے کی اپنی پاسداری اور اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ تاہم، اصل نقطہ یہ ہے کہ تعمیری تنقید اور سیاسی طنز جمہوریت کا حسن اور حکمرانوں کی اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتے ہیں۔ مغرب کی اس مثال سے سیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد میں تنقید کو زہر کے بجائے دوا سمجھ کر برداشت کرنے کا ظرف ہونا چاہیے۔ جب تک ہماری اشرافیہ اپنے تکبر کے خول سے باہر نکل کر عوامی آواز اور تنقید کو سننے کی ہمت پیدا نہیں کرے گی، تب تک جمہوریت محض ایک نام نہاد نعرہ رہے گی اور غلطیوں کی اصلاح کے راستے ہمیشہ کے لیے بند رہیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button