بدین میں حکیم ہالیپوٹو کی آٹھویں برسی پر جلسہ عام اور ہاری کانفرنس کا انعقاد

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)عوامی تحریک کے رہنما حکیم ہالیپوٹو کی آٹھویں برسی کے موقع پر جلسہ عام اور ہاری کانفرنس منعقد کی گئی۔ سندھ میں نئے صوبے بنانے کے خلاف ٹنڈو باگو سے ریلی نکالی گئی، حکیم ہالیپوٹو کی آخری آرام گاہ پر پھول نچھاور کرکے سلامی پیش کرنے کے بعد جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر سندھی ہاری تحریک ضلع بدین کی تنظیم نو بھی کی گئی، جس میں جیون کمار کو صدر اور پرشوتم کولہی کو جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔

جلسے سے عوامی تحریک کے مرکزی آرگنائزر لال جروار، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری ایڈووکیٹ راحیل بھٹو، سندھی گرلز اسٹوڈنٹ تحریک کی مرکزی صدر کائنات ہالیپوٹو، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی آرگنائزر انور رند، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ وسندھ تھری، نور احمد کاتیار، عبدالقادر رانٹو، ڈاکٹر دلدار لغاری، محمد علی تالپور، جاکھرو نوحانی، ہمیرو مل، سچل ہالیپوٹو، پربھات ہالیپوٹو، عظمت ہالیپوٹو، مہران درس، ایڈووکیٹ فاضل زئنور، بیگم زئنور، زرقا ہالیپوٹو، دلبر خواجہ اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکیم ہالیپوٹو زندگی کی آخری گھڑی تک عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے ہونے والی جدوجہد میں سرگرم رہے۔ وہ کالا باغ ڈیم اور دیگر سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف پورے خاندان سمیت پیدل لانگ مارچوں، جلسوں اور جلوسوں میں بھرپور شرکت کرتے رہے۔ حکیم ہالیپوٹو فکرِ رسول بخش پلیجو اور سندھ دھرتی کے وفادار سپاہی تھے۔

رہنماؤں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے نام پر سندھ کی صدیوں پرانی تاریخ اور تہذیب پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ زمین کا محض ایک ٹکڑا نہیں بلکہ صدیوں سے سندھیوں کا تاریخی وطن رہا ہے، جس کے تحفظ کے لیے سندھی عوام نے ارغونوں، ترخانوں، مغلوں، انگریزوں اور دیگر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیے جنگیں لڑیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ ملک پر قابض حکمران ٹولے اور اسٹیبلشمنٹ کی ناکام داخلی پالیسیوں کے باعث ملک میں دہشت گردی میں تیزی آئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا طوطا محسن نقوی ملک میں نئے صوبوں کی مہم چلا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اقتدار کی خاطر گٹھ جوڑ نے ملک سے جمہوریت کا خاتمہ کرکے عدلیہ کی آزادی پر شب خون مارا، انصاف کے دروازے بند کیے اور بدترین آمریت مسلط کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا سیاسی کردار منافقت، مکاری، دھوکے اور فریب پر مبنی رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اقتدار کی خاطر سندھ کے وسائل کو بے دریغ لٹایا ہے رہنماؤں نے کہا کہ پنجاب کا حکمران طبقہ دریائے سندھ سے ڈیموں اور نہروں کے ذریعے گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے سندھ کے حصے کے پانی پر ڈاکہ ڈالتا آ رہا ہے۔ دریائے سندھ میں پانی نہ چھوڑنے کے باعث ڈیلٹا تباہ ہوگیا ہے، جبکہ سمندر کا کھارا پانی اوپر چڑھ آنے کے باعث ٹھٹہ، سجاول اور بدین کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمینیں بنجر ہوگئی ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی فیکٹریوں کے زہریلے مادوں اور گٹر کے پانی کے اخراج کے باعث دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل بھی نہیں رہا، جس کے نتیجے میں وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں فصلوں کے مناسب نرخ نہ ملنے کے باعث آبادگار اور ہاری معاشی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی کے باعث عوام بھوک کاٹنے، خودکشیاں کرنے اور اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ تھر میں شدید قحط سالی ہے، اس کے باوجود تھر کے عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا رہنماؤں نے کہا کہ تھر کے بچے اپنی محنت سے میڈیکل کے شعبے میں کامیاب ہوئے تو متعصب اردو میڈیا اپنے بلوں سے باہر نکل آیا اور ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر سندھی نوجوانوں کے خلاف زہریلی پروپیگنڈا مہم شروع کردی۔ ایم کیو ایم کے دہشت گرد اور جرائم پیشہ ٹولے نے اردو بولنے والی مہاجر آبادی کے نوجوانوں کو قلم کے بجائے ہاتھوں میں ہتھیار دیے اور رحمان بھولا، زبیر چریا، جاوید لنگڑا اور صولت مرزا جیسے دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز پیدا کیے رہنماؤں نے کہا کہ محسن نقوی کو ہٹلر کی طرح پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے پالے ہوئے طوطے محسن نقوی کو سینیٹ کا ٹکٹ دے کر سینیٹر بنانے اور ایوانوں تک پہنچا کر طاقتور بنانے والے ملک اور قوم کے مجرم ہیں رہنماؤں نے کہا کہ جب سے فارم 47 کے تحت بوگس اور ہائبرڈ نظام ملک پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے، تب سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، امن اور انصاف کا پرندہ اڑ گیا ہے، معاشی و اقتصادی طور پر ملک دیوالیہ ہوگیا ہے، جبکہ مہنگائی، بھوک، افلاس اور بے روزگاری نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ ملک میں آزاد صحافت کی زبان بندی کرکے عوام کی آواز کو دبایا گیا ہے جلسے میں سندھیانی ثقافتی گروپ کی جانب سے قومی گیتوں پر ٹیبلوز بھی پیش کیے گئے اس موقع پر سندھی ہاری تحریک ضلع بدین کی تنظیم کا انتخاب بھی کیا گیا، جس میں صدر جیون کمار، نائب صدر جاکھرو نوحانی، جنرل سیکریٹری پرشوتم کولہی جوائنٹ سیکریٹری ارشاد نظامانی، پریس سیکریٹری صادق ہالیپوٹو، خزانچی سورج کولہی، آفس سیکریٹری سلیمان ہالیپوٹو منتخب ہوئے، جبکہ اراکین میں لکمن، مہران، محبت، ستو ہری، منجی، مویون کولہی، کیول کولہی، لال جی کولہی اور کھیم چند کولہی شامل ہیں

مزید خبریں

Back to top button