بھارتی تجزیہ کار نے پاک فوج اہلکار سے متعلق دعویٰ مسترد کر دیا، مودی حکومت پر سنگین الزامات

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے دعووں پر خود بھارتی تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھا دیے۔ سینئر بھارتی صحافی اور ’دی پرنسپل انڈیا‘ کے ایڈیٹر اجے شکلا نے مقبوضہ کشمیر میں سابق پاکستانی ایس ایس جی کمانڈو کی ہلاکت سے متعلق بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
اجے شکلا نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں خفیہ ایجنسیوں، عدالتوں اور فوج سمیت ریاستی اداروں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پلوامہ، پہلگام اور پٹھان کوٹ سمیت مختلف واقعات کا الزام پاکستان پر عائد کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ پہلگام واقعے کے معاملے پر بھی پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے بجائے مبینہ انکاؤنٹرز میں دہشت گردوں کی ہلاکت کے دعوے سامنے لائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعے میں بھی مقبوضہ کشمیر میں سابق پاکستانی ایس ایس جی کمانڈو کی شہادت سے متعلق بیانیہ پیش کیا گیا، تاہم بھارت اس حوالے سے قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
اجے شکلا کے مطابق اگر بھارت کے پاس ان دعوؤں کے ٹھوس شواہد موجود ہوتے تو انہیں عالمی فورمز پر پیش کیا جاتا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بھارتی میڈیا پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ حکومتی ذرائع کے زیرِ اثر پاکستان مخالف خبریں اور بیانیے نشر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کی نگرانی میں فالس فلیگ کارروائیوں کا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے اور میڈیا کے ذریعے اسے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
بھارتی صحافی کے ان بیانات نے بھارت کے اندر پاکستان مخالف دعوؤں، ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال اور میڈیا کے کردار سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔



