حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے اور ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ

صنعا(ویب ڈیسک) یمن کے حوثی جنگجوؤں نے صوبہ تعز میں سعودی عرب کے زیرِ استعمال ترک ساختہ بیرقدار آقنچی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری کے مطابق ڈرون تعز میں ایک مشن پر مامور تھا جسے مناسب ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا۔ تاہم ڈرون گرائے جانے کے حوثیوں کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے آبنائے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ان کے اجتماعات کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک اور میزائل حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ حوثی فورسز کی جانب سے رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا یہ تیسرا موقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 36 زخمی ہوئے، زخمیوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
دوسری جانب یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے یمن کے مختلف علاقوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب میں شہریوں، شہری تنصیبات اور ریاض و ابہا ایئرپورٹس کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کو ’’بغیر سزا کے‘‘ نہیں رہنے دیا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ اتحادی فورسز نے ایک جامع کارروائی کے دوران صعدہ، الجوف اور مارب میں حوثی ملیشیا کے 82 جائز فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کیا۔
ترکی المالکی کے مطابق کارروائی میں بالخصوص بیلسٹک میزائل سائٹس، صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں موجود میزائل اسٹوریج مقامات، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، مواصلاتی نظام، میزائل و اسلحہ ڈپو اور حوثی جنگجوؤں کے اجتماع کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق اتحادی افواج کی یہ کارروائیاں ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کی گئیں۔



