مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ہرمز کی صورتحال، عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات، خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ اور امریکا میں سمندری تیل کی پیداوار میں کمی بتائی جا رہی ہے۔

کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 2.52 فیصد اضافے کے بعد 102.70 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.24 فیصد بڑھ کر 90.26 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

اماراتی مربن خام تیل کی قیمت میں بھی 0.47 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مربن 106.70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کی جانب سے ہنگامی صورتحال میں تیل کے ذخائر تیزی سے مارکیٹ میں جاری کرنے کے منصوبے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور ایندھن کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق تازہ ترین واقعے میں قطر کے شمال میں ایک آئل ٹینکر کو متعدد پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔

دوسری جانب امریکا میں سمندری طوفان کے خطرے کے باعث خلیجِ میکسیکو میں تیل کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ شیل اور شیورون سمیت مختلف کمپنیوں نے سمندری تنصیبات پر آپریشنز محدود کر دیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق بدھ تک خلیجِ میکسیکو میں تیل کی تقریباً 25.08 فیصد اور قدرتی گیس کی 16.37 فیصد موجودہ پیداوار طوفان کے باعث بند کی جا چکی تھی۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کے خدشات اور امریکا میں پیداوار میں عارضی کمی عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button