تلہار میں پولیس مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج، نوجوان کی رہائی اور تحقیقات کا مطالبہ

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) تلہار میں پولیس کی مبینہ زیادتیوں اور نوجوان کی گرفتاری کے خلاف ملاح برادری کے مردوں اور خواتین نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین میں مسمات حلیمان صنم، نوران، زیب النساء، سلمان، روزینہ اور خمیسو ملاح سمیت دیگر افراد شامل تھے۔ احتجاج کرنے والوں نے پولیس پر مبینہ زیادتیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کے مطابق تلہار کے وارڈ نمبر 11 کے رہائشی بزرگ گل محمد ملاح اپنے بیٹے اظہر ملاح کے ہمراہ طبی معائنے کے لیے اسپتال گئے تھے، جہاں پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر گل محمد ملاح سے بدتمیزی کی اور انہیں دھکے دیے، جبکہ ان کے بیٹے اظہر ملاح کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ گل محمد ملاح پہلے ہی علیل تھے، تاہم ان کے سامنے بیٹے کو مبینہ طور پر زبردستی لے جائے جانے کے باعث انہیں شدید صدمہ پہنچا، جس کے بعد ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی۔ تشویشناک حالت کے باعث انہیں بدین کے انڈس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ اظہر ملاح کی رہائی کے عوض پولیس کی جانب سے ایک لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی، جبکہ نوجوان کے خلاف مبینہ طور پر منشیات کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

ملاح برادری نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا شفاف اور غیرجانبدارانہ طور پر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ پولیس زیادتیوں کی تحقیقات کی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button