تھرکول منصوبوں کے مخالفین میں بعض نے کمپنیوں سے روزگار حاصل کیا، ایم پی اے فقیر شیر محمد بلالانی

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) اسلام کوٹ کے قریب گاؤں جیئندو درس میں تھر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مویشی پالنے اور مالداروں کی تربیت کے حوالے سے پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ایم پی اے فقیر شیر محمد بلالانی نے تھرکول منصوبوں، مقامی افراد کے روزگار اور آر او پلانٹس کی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فقیر شیر محمد بلالانی نے دعویٰ کیا کہ تھرکول منصوبوں کے خلاف لکھنے اور آواز اٹھانے والے بعض افراد نے کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر خود روزگار حاصل کیا اور اپنے لوگوں کو بھی ملازمتیں دلوائیں، جبکہ حقیقی متاثرہ دیہاتی اب بھی روزگار سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کو کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، جبکہ کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی رہائشیوں کو روزگار کے ساتھ بنیادی سہولیات فراہم کریں۔
ایم پی اے نے تھر میں آر او پلانٹس کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پورے علاقے میں آر او پلانٹس کا منصوبہ مؤثر انداز میں نہیں چلا سکی اور متعدد پلانٹس بند پڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود ایم پی اے ہیں، لیکن ان کے اپنے گاؤں کا آر او پلانٹ بھی گزشتہ چار سال سے خراب ہے۔
فقیر شیر محمد بلالانی کے مطابق تھرکول سے متاثرہ دیہات میں جو آر او پلانٹس فعال ہیں، وہ تھر فاؤنڈیشن کے تعاون سے نصب اور فعال کیے گئے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ دیہات میں اسکولوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تھر فاؤنڈیشن کے کردار کو بھی سراہا۔
پروگرام کے دوران مالداروں اور مقامی افراد کو مویشی پالنے، جانوروں کی دیکھ بھال اور روزگار کے مواقع سے متعلق تربیت بھی فراہم کی گئی۔



