پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں ٹوٹے؟شیری رحمان نے بڑی وجہ بتا دی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی وجہ خیبرپختونخوا حکومت کا انسداد دہشت گردی تعاون کے ڈرافٹ پر دستخط کرنے سے انکار ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دو روز کے دوران ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، ہر شق پر مستقل مزاجی سے بات کی، پی ٹی آئی کے خدشات سنے اور اپنی قیادت سے بھی مشاورت کی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ بار بار کہا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر قیادت مذاکرات میں شریک ہو، لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یا صوبائی کابینہ کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوا۔
شیری رحمان کے مطابق رات ساڑھے 8 بجے تک تقریباً تمام معاملات طے پا چکے تھے، تاہم اس کے بعد پشاور حکومت کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنا شروع ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اتوار کی صبح تک مذاکرات ختم نہیں کیے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، تاہم دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس نہ آنے کے باعث عمل اختتام پذیر ہوگیا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ٹیلیفون کرکے پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم کو مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک سے بھی آگاہ کیا اور بات چیت کی پیش رفت سے متعلق صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔



