شہتوت کھانے سے معدے کی صحت بہتر ہوسکتی ہے، نئی تحقیق

وارسا (جانو ڈاٹ پی کے) شہتوت کو صدیوں سے مختلف ممالک میں بطور غذائی اور روایتی دوا استعمال کیا جاتا رہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں اس پھل کے معدے اور آنتوں کی صحت سے متعلق ممکنہ فوائد سامنے آئے ہیں۔

پولینڈ کی وروتسواو میڈیکل یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ شہتوت اور اس کے پتوں میں موجود مرکبات معدے میں موجود بیکٹیریا اور جسم کے میٹابولزم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق معدے میں موجود بیکٹیریا نہ صرف نظامِ ہاضمہ کے افعال میں کردار ادا کرتے ہیں بلکہ پورے جسم کے میٹابولزم پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ شہتوت میں پولی فینولز سمیت متعدد ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو معدے میں موجود بیکٹیریا کی سرگرمیوں اور ان کے اجتماع کو متاثر کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران شہتوت کے پھل اور پتوں میں موجود مرکبات کے ممکنہ صحت بخش اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان مرکبات کے استعمال سے معدے کے بیکٹیریا میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں اور وہ ایسے فیٹی ایسڈز بنانے لگے جو میٹابولزم پر مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق ان تبدیلیوں سے آنتوں کے افعال میں بہتری اور بعض میٹابولک امراض کے خطرے میں کمی کے امکانات سامنے آئے۔

تحقیق کے تجربات چوہوں پر کیے گئے، جنہیں زیادہ چکنائی والی غذائیں دی گئیں اور بعد ازاں شہتوت میں موجود مرکبات فراہم کیے گئے۔ محققین نے بتایا کہ اس کے بعد جانوروں کے معدے میں موجود بیکٹیریا میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق کے نتائج ابھی ابتدائی نوعیت کے ہیں، کیونکہ انسانوں پر شہتوت کے ان اثرات کا براہِ راست جائزہ نہیں لیا گیا۔ اس لیے انسانوں میں اس کے ممکنہ فوائد کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button