چھاچھرو میں سرکاری زمینوں پر قبضے کا الزام، چرواہے پر تشدد کے خلاف دیہاتیوں کا احتجاج

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تحصیل چھاچھرو کے گاؤں سوجی جو تڑ میں میگھواڑ برادری نے مبینہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بااثر افراد پر سرکاری زمینوں پر قبضے اور چرواہوں کو مبینہ طور پر یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

احتجاجی مظاہرین روشن میگھواڑ، لکھومل، بھاگچند اور دیگر نے الزام عائد کیا کہ حاجی شاہ، محبوب شاہ، خان محمد، مظفر شاہ اور دیگر بااثر افراد مبینہ طور پر انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کر رہے ہیں اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔

مظاہرین کے مطابق سرکاری زمینوں پر مبینہ قبضے کے خلاف ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کو درخواست دینے کے بعد ان کے چرواہوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بعض افراد سے زبردستی کھیتوں میں کام بھی کروایا جا رہا ہے۔

میگھواڑ برادری کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر زبردستی کام کروانے سے انکار پر ایک چرواہے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سوائی ولد بلال میگھواڑ شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی سوائی کو تشویشناک حالت میں حیدرآباد کے اسپتال منتقل کیے جانے کا بتایا گیا ہے۔

مظاہرین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ قبضوں اور زیادتیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

میگھواڑ برادری نے خبردار کیا کہ مطالبات پر کارروائی نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button