عراق سے امریکی افواج کا2دہائیوں بعدانخلا،ایران اوراتحادیوں نے تاریخی فتح قراردیدیا

بغداد (جانو ڈاٹ پی کے)عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی اپنے اختتام کو پہنچ گئی، امریکی افواج 30 ستمبر تک عراق میں اپنے آخری فوجی اڈوں سے بھی انخلا مکمل کر رہی ہیں۔ اس پیش رفت کو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے دوران تقریباً 4 ہزار 500 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔ امریکی انخلا کا فیصلہ 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوا، جس پر عملدرآمد موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کر رہی ہے۔
عراقی سیکیورٹی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں کا عراق میں اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔ بعض ماہرین نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ سیکیورٹی خلا پیدا ہونے کی صورت میں داعش سمیت دیگر مسلح گروہوں کو دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
عراقی سیکیورٹی تجزیہ کار جاسِم البہدلی کے مطابق امریکی فوجی موجودگی کئی برسوں سے عراق میں ایرانی اثر و رسوخ کے مقابل ایک توازن کا کردار ادا کر رہی تھی، اس لیے اس کے خاتمے سے ایران کو تزویراتی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران نواز ملیشیا امریکی انخلا کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اور سیاسی فیصلہ سازی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نواز گروپ ’’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘‘ کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلا کو عراقی مزاحمتی گروہوں کے لیے ’’تاریخی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق نے ثابت کردیا ہے کہ اس کی خودمختاری غیر ملکی افواج کے بجائے عراقی عوام اور مزاحمت کے ذریعے محفوظ کی جاسکتی ہے۔ یہ مؤقف مذکورہ گروپ کا بیان ہے۔عراقی حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ملکی سیکیورٹی کی ذمہ داری عراقی فورسز سنبھالیں گی اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات سیکیورٹی شراکت داری کی نئی شکل میں جاری رہیں گے۔



