بدین میں انتقال و فروخت سرٹیفکیٹ بکوں کی عدم دستیابی، شہریوں کا ریونیو نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ / پی کے)محکمہ روینیو بورڈ حیدرآباد اور بدین کے روینیو افسران اور تپیداروں نے رشوت اور سرکاری اور نجی زرعی زمینوں کے جعلی ٹی اوز اور فروخت سرٹیفکیٹس جاری کرکے سرکاری رکارڈ میں ہیرا پھیری جعلی داخلائوں کے ذریعے اربوں کی جائیدادوں کے مالک بن گئے ہیں گزشتہ تین سالوں سے زیادہ عرصے سے ایک با اثر افسر رشوت کے عیوض اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو اسسٹنٹ کمشنر بدین کی پوسٹوں پر براجمان ہیں اور 2003 میں ضلعی حکومتی نظام میں عارضی طور پر بھرتی ہونے والے پانچ ویں اسکیل کا کلرک سترہ اور انیسویں گریڈ کی پوسٹوں پر براجمان ہیں غیر قانونی طور پر زرعی زمینوں اور جائیدادوں کی سرکاری رجسٹرڈ میں داخلا ئیں بند کر دی گئی ہیں داخلا بک اور فروخت بکیں روینیو بورڈ حیدرآباد میں کمیشن نہ ملنے کے عیوض میں روکے ہوئے ہیں روینیو بدین کے ذرائع، داخلا بک اور فروخت بکیں جاری نہ ہونے سے شہریوں اور زراعت پیشہ افراد کو سخت مشکلات کا سامناہے اربوں روپے کی خرید وفروخت اور ضروری قانونی معاملات غیر اعلانیہ اور غیر قانونی طور پر التواء میں پڑہوئے ہیں تفصیل کے مطابق
ضلع بدین کے مختلف تپوں جن میں بدین، پاٹار، سونہر اور دیگر علاقے شامل ہیں کے داخلہ کے بک گزشتہ کئی ماہ سے بورڈ آف ریونیو حیدرآباد کی جانب سے جاری نہ ہونے کے باعث زرعی زمینوں سمیت مختلف جائیدادوں کی خرید و فروخت سے وابستہ شہریوں، تاجروں اور کھاتیداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے شہریوں کے مطابق محکمہ روینیو کے داخلا بک دستیاب نہ ہونےکے باعث زمینوں اور مختلف جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات التوا کا شکار ہیں سرکاری رکارڈ میں قانونی داخلائوں کا عمل اور فروخت سرٹیفکیٹس غیر اعلانیہ اور غیر قانونی طور پر بند ہیں جس کے نتیجے میں شہریوں کے اربوں روپے کی لین دین کی رقوم مختلف معاملات میں پھنس گئی ہیں متاثرہ سینکڑوں شہریوں اور دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ معاملات میں غیر معمولی تاخیر کے باعث بعض جائیدادوں کے سودے منسوخ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے جبکہ کئی افراد اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں بدین کی دیہہ گھاگھڑو کے ایک کھاتیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی وہ بدین میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تاہم داخلے کے بک نہ ہونے اور نئے بک بروقت جاری نہ ہونے کے باعث زمینوں سمیت مختلف جائیدادوں کی خرید وفروخت کے معاملات میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کے اس صورتحال سے نہ صرف سرمایہ کاروں اور زمین مالکان کو مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ علاقے کی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ داخلہ کے عمل میں تاخیر کے باعث حکومت کو رجسٹریشن اور دیگر متعلقہ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی بھی متاثر ہونےکاخدشہ ہے دوسری طرف شہریوں اور کھاتہ داروں کی جانب سے تپہ بدین میں تعینات تپیدار ایاز جونیجو کے حوالے سے بھی شکایات سامنے آئی ہیں شہریوں کا الزام ہے کہ مذکورہ تپیدار سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر کئی سالوں سے بدین تپہ پرتعینات ہیں اور مختلف ریونیو معاملات میں شہریوں کو بلاجواز تنگ اور جائز کام کے عیوض بھاری رشوت طلب کرتا ہے جس کے باعث بھی شہریوں اور کھاتہ داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے شہریوں اور کھاتہ داروں کا کہنا ہے کے بدین ضلع کی پچاس سالہ تاریخ میں واحد میں موجودہ ڈی سی ہے جس کے دروازے عوام کے لیئے بند ہیں دوسری طرف محمکہ روینیو بدین کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کے بدین کی عدالت میں زیر سماعت ایک مقدمہ کی عدالت نے رپورٹ طلب کی تھی لیکن مختیار کار بدین اور مذکورہ تپیدار نے بھاری رشوت کے عیوض اصل حقائق چھپا کر غلط رپورٹ عدالت میں پیش کرکے عدالت کو بھی گھمراہ کیا ہے جس کی بھی ڈی سی بدین نے تحقیقات سردخانے حوالے کی ہوئی ہے ذرائع کے مطابق سرکاری داخلا بک اور سرکاری فرخت سرٹیفکیٹ بک ختم ہونے کی صورت میں وہ بکیں بورڈ آف ریونیو حیدرآباد آباد میں جمع ہو تے ہیں اور ان کے عیوض بھاری کمیشن کے عیوض نئے بک جاری کیئے جاتیں ہیں ذرائع کے مطابق وہ بک جاری کرانے کے لیئے اسسٹنٹ کمشنر مختیار کار اور تپیداروں نے شہریوں اور کھاتہ داروں سے داخلہ رکھنے اور فروخت سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر فی ایکڑ یا فی فٹ کے حساب سے فیسیں وصول کرتے ہیں جس میں سے روینیو بورڈ کے افسران کا حصہ نکال کر باقی رقم آ پس میں بندر بانٹ کرتے ہیں ذرائع کے مطابق شہریوں اور کھاتہ داروں سے رشوت وصول کرنے کے باوجود محکمہ روینیو بورڈ میں مقررہ حصے کی رقم نہ پہنچنے پر گزشتہ کئی ماہ سے بدین تحصیل کے مذکورہ تپوں اور فروخت سرٹیفکیٹس بکیں مبینہ طور پر جاری نہیں کیئے جا رہے ہیں محکمہ روینیو کے ذرائع نے بتایا ہے کے گزشتہ تین سالوں سے زیادہ عرصے سے بھاری رشوت اور سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر ایک روینیو افسر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر بدین کی پوسٹوں پر براجمان ہیں اور جنرل پرویز مشرف کے دور کے ضلعی حکومتوں کے نظام میں تھر میٹھی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سفارش پر اس وقت کے نظام کے تحت ڈی او فنانس کی آ فیس میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر پانچویں اسکیل میں کلرک بھرتی کیا گیا تھا جو بعد میں نہ فقط اس وقت کے ڈی سی اوز اور ڈی او فنانس سمیت پیپلز پارٹی کے طاقتور شخصیات کی آنکھوں کا تارہ بن گیا اور اپنی ہاتھ اور قلم کی صفائی سے ان ضلعی حکومت کے افسران اور سیاسی طاقتوروں کی تجوریاں بھردی اور خود بھی ارب پتی بن گیا اور اس کی ان خدمات کے بدلے ماورائے قانون اس کو محکمہ روینیو میں کلرک کے طور پر مرج کردیا گیا اور محکمہ روینیو بدین میں تیس سالوں سے زیادہ سینئر ملازمین کو نظر انداز کرکے اس کو پانچویں اسکیل سے ماورائے قانون ترقیاں ملتی گئی اس وقت وہ محکمہ روینیو بدین میں سترہ گریڈ کی اکائونٹنٹ اور ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ افسر کی انیس گریڈ کی پوسٹ کی اضافی چارج پر براجمان ہے اور بدین ضلع کی سالانہ اے ڈی پی بجٹ کا کرتا دھرتا ہے اور ضلعی حکومت کے دور کے ڈی سی اوز اور ڈی او فنانس اس وقت وزیر اعلیٰ سندھ ھائوس اور سندھ سیکریٹریٹ میں اعلیٰ عہدوں پر مامور ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ افسر کی خالی پوسٹ پر کسی بھی افسر کو ٹکنے نہیں دیتا اور سینکڑوں کرپشن کے الزامات کے باوجود اس کا تبادلہ یا اس کے خلاف کوئی تحقیقات پر بھی پابندی ہے ڈی سی آ فیس بدین کے ایک سینئر ترین آ فیس سپرنٹینڈنٹ نے اپنے حق پر ڈاکے اور غیر قانونی طور پر محکمہ روینیو میں مرج کرنے اور ماورائے قانون اس کو ترقیاں دینے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آ ئینہ پٹیشن داخل کی تھی لیکن مذکورہ طاقتور ترین اکائونٹنٹ و قائم مقام ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ افسر نے اپنے سیاسی اور سرکاری اثر رسوخ کی بنیاد پر بدین کے اس مقامی سینئر ملازم کو آ ئینہ پٹیشن سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا بدین ضلع کے شہریوں نے سندھ حکومت محکمہ ریونیو کے صوبائی وزیر اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ داخلہ اور فروخت سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے عیوض من مانی رشوت وصول کرنے کے باوجود داخلا اور فروخت سرٹیفکیٹس بکیں جاری نہ ہونے کے معاملے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں کو محکمہ روینیو میں درپیش مشکلات اور جائز کام پر بھی رشوت کی دکانداری بند کرنے اور ڈی سی بدین سمیت افسران کی آ فیسوں میں غیر حاضر ہوں اور ضلعی افسران کی خالی پوسٹوں پر ایماندار افسران کی تعیناتی کی بجائے چھوٹی گریڈ کے ملازمین کو اضافی چاروں کا نوٹس لیا جائے اور شہریوں سمیت کھاتہ داروں کی شکایات کا نکا ازالہ کیا جائے شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائیگا جس کا دائرہ کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے



