اسلام آباد میں ممکنہ لانگ مارچ، دیگر صوبوں سے نفری وفاقی دارالحکومت پہنچنا شروع

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد کی طرف ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بھی دارالحکومت پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ ممکنہ صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز، 40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز سمیت افسران کو مختلف علاقوں اور سب سیکٹرز میں تعینات کیا جائے گا۔
ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے کے پیش نظر ریڈ زون کی سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ شہر کی مختلف شاہراہوں اور اہم مقامات پر 1200 کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، جنہیں احکامات ملنے پر راستوں کی بندش کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق موٹروے، ترنول اور سنجانی سے ریڈ زون تک اہم شاہراہوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ سری نگر ہائی وے اور ایکسپریس وے پر بھی اضافی سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔
بہارہ کہو کے مقام پر بھی کنٹینرز لگا کر کشمیر سے آنے والے راستے بند کرنے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ صورتحال کے پیش نظر مارگلہ روڈ سے ریڈ زون کا راستہ بھی بند کیے جانے کا امکان ہے۔
دیگر علاقوں سے پولیس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی اسلام آباد طلب کیے گئے ہیں، جن کے لیے شہر کے تعلیمی اداروں میں رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں نگرانی کے لیے 15 ہزار سے زائد کیمروں کی مدد لی جائے گی، جبکہ ریستورانوں، سراؤں اور ہوٹلوں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے داخلی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ ممکنہ لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔



