امریکا نے محمود عباس اور فلسطینی وفد کی ویزا درخواستیں مسترد کردیں

واشنگٹن (ویب ڈیسک)ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے وفد میں شامل درجنوں حکام کی ویزا درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب فلسطینی صدر کو امریکا آنے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ذاتی طور پر خطاب کرنے سے روکا گیا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ویزا درخواستیں قومی سلامتی، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے خدشات اور فلسطینی قیادت کو جوابدہ بنانے سے متعلق بعض امریکی قوانین کے تحت مسترد کی گئی ہیں۔

فلسطینی حکام نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فلسطینی مؤقف کے مطابق میزبان ملک کے معاہدے کے تحت امریکا پر اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے والے عالمی رہنماؤں کو سفری سہولیات فراہم کرنا لازم ہے۔

ویزا مسترد ہونے کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ محمود عباس گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ذاتی طور پر خطاب کرنے کے بجائے ویڈیو لنک یا ریکارڈ شدہ بیان کے ذریعے اپنا خطاب کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button