ماتلی میں بجلی کا بحران سنگین، لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے تک پہنچ گئی، شہری سڑکوں پر نکل آئے

ماتلی (رپورٹ: اے۔ایم۔گدی) ماتلی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے سے بڑھ کر 16 گھنٹے تک پہنچنے پر تاجر برادری، شہریوں، سماجی حلقوں اور طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔
تاجروں اور شہریوں نے محمدی چوک سے احتجاجی ریلی نکالی، جو بعد ازاں دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔ مظاہرین نے حیسکو کے مقامی انتظامی امور اور ایس ڈی او کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں عدنان قائمخانی، نجم عبدالواصی راجپوت، قاضی عبدالوھاب عباسی، سلیم یوسف اڍیجو، زاہد چڈھڑ ایڈووکیٹ، کاشف طاہری سمیت دیگر شہریوں اور تاجروں نے شرکت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئے ایس ڈی او کی تعیناتی کے بعد ماتلی میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش میں مبینہ طور پر غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 14 سے 15 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کردیا ہے جبکہ تاجر روزانہ کی بنیاد پر مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں۔
شہریوں نے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں گھنٹوں بجلی بند رہنے سے گھروں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اسکول جانے والے بچے بھی آرام اور پڑھائی سے محروم ہورہے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق بجلی کی عدم دستیابی کے باعث گھروں اور مساجد میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہورہی ہے، جبکہ بجلی سے چلنے والا معمول کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوچکا ہے۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ متعدد مرتبہ حیسکو حکام کی توجہ بجلی کے بحران کی جانب مبذول کراچکے ہیں، تاہم مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث تاجر اور شہری سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
اس موقع پر مظاہرین نے "نااہل ایس ڈی او کو ہٹاؤ، ماتلی کو اندھیروں سے بچاؤ” کے نعرے بھی لگائے۔
مظاہرین نے حیسکو کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ موجودہ ایس ڈی او کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے، غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرکے ماتلی میں بجلی کی فراہمی معمول پر لائی جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کے بحران کا فوری حل نہ نکالا گیا تو شہری اور تاجر حلقے احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔



