قبل از وقت سفید ہوتے بال؛ وجوہات، جدید تحقیق اور تدارک!

راجہ نوید
کبھی آئینے میں نظر آنے والا ایک سفید بال بھی انسان کو اپنی عمر سے زیادہ بڑا محسوس کرا دیتا ہے، لیکن بالوں کا وقت سے پہلے سفید ہونا صرف عمر بڑھنے کی علامت نہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق جینیاتی رجحان، جسم میں Oxidative Stress، غذائی کمی، ہارمونی مسائل اور بعض بیماریوں کا بھی اس میں کردار ہوسکتا ہے۔ ایشیائی افراد میں عموماً 25 سال سے پہلے نمایاں سفیدی کو قبل از وقت بال سفید ہونا قرار دیا جاتا ہے۔
بالوں کا قدرتی رنگ Melanin نامی روغن سے بنتا ہے، جو بالوں کی جڑوں میں موجود مخصوص خلیات Melanocytes تیار کرتے ہیں۔ عمر یا بعض دیگر عوامل کے باعث یہ خلیات کمزور یا ختم ہونے لگیں تو بالوں میں رنگ پیدا ہونا کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں Oxidative Stress کو قبل از وقت سفیدی کی اہم وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔ بالوں کی جڑوں میں Hydrogen Peroxide جیسے نقصان دہ کیمیائی اجزا جمع ہوکر رنگ پیدا کرنے والے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ جسم کا قدرتی حفاظتی نظام بھی اس عمل کے دوران متاثر ہوتا ہے۔
جینیات سب سے مضبوط عوامل میں سے ایک ہے۔ اگر والدین یا خاندان میں کم عمری میں بال سفید ہونے کی تاریخ موجود ہو تو اگلی نسل میں بھی یہ رجحان زیادہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی، مسلسل ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، بعض خودکار مدافعتی بیماریاں اور Thyroid کی خرابی بھی قبل از وقت سفیدی سے منسلک پائی گئی ہیں۔
غذائی کمی بھی قابلِ توجہ ہے۔ تحقیق میں خصوصاً Vitamin B12، Folate، Vitamin D، Iron، Ferritin اور بعض اوقات Copper اور Zinc کی کم سطح اور قبل از وقت سفیدی کے درمیان تعلق رپورٹ ہوا ہے، اگرچہ ہر شخص میں سفید بال کی وجہ غذائی کمی نہیں ہوتی۔
اسی لیے اگر کم عمری میں اچانک یا تیزی سے بال سفید ہونا شروع ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے کے بعد Vitamin B12، Vitamin D، Ferritin، Iron اور Thyroid Function جیسے ٹیسٹ صورتحال کے مطابق کروائے جاسکتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی کمی یا بیماری موجود ہو تو اس کا علاج ضروری ہے؛ صرف بال کالے کرنے کے لیے بلا ضرورت غذائی سپلیمنٹس استعمال کرنا درست طریقہ نہیں۔
اور اب سب سے اہم سوال: کیا سفید بال دوبارہ کالے ہوسکتے ہیں؟ فی الحال جدید طب کے پاس ایسا ثابت شدہ اور مستقل علاج موجود نہیں جو عام عمر رسیدگی یا جینیاتی وجہ سے سفید ہونے والے بالوں کو یقینی طور پر دوبارہ کالا کردے۔ بعض محدود تحقیقات میں PABA، Calcium Pantothenate اور مخصوص ایسے اجزا سے دوبارہ رنگ آنے کے امکانات دیکھے گئے جو بالوں کے رنگ پیدا کرنے والے خلیات کو متحرک کرتے ہیں، مگر ان کے شواہد محدود اور نتائج غیر مستقل ہیں۔ ایک محدود طبی تحقیق میں α-MSH پر مشتمل بیرونی استعمال کی دوا سے بھی نمایاں طور پر بالوں میں دوبارہ رنگ آنے کی اطلاع ملی، لیکن اسے ابھی عام اور ثابت شدہ علاج نہیں سمجھا جاسکتا۔
لہٰذا فی الحال بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ بنیادی وجہ تلاش کی جائے، غذائی کمی پوری کی جائے، متوازن غذا، مناسب نیند اور صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے اور سگریٹ نوشی سے گریز کیا جائے۔ باقی سفید بالوں کے لیے Hair Color استعمال کرنا اب بھی سب سے قابلِ اعتماد ظاہری حل ہے۔ سائنس البتہ بالوں کی جڑوں میں موجود رنگ پیدا کرنے والے بنیادی خلیات، جسم کے قدرتی حفاظتی نظام اور بالوں کی جڑوں تک براہِ راست اثر کرنے والے علاج پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں سفید بالوں کو مستقل طور پر دوبارہ قدرتی رنگ دینے کا مؤثر علاج حقیقت بن جائے۔



