تھرپارکر میں توہم پرستی کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی، کئی گھر تباہ،شہریوں کا بھوپوں کیخلاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تعلقہ ڈِپلو کے قریب گاؤں بپراڑیو میں مبینہ طور پر عمران چوہان اور جان محمد نامی دو افراد، جو گاؤں علی بخش شاہ کے رہائشی اور خود کو سمن سرکار کے فقیر ظاہر کرتے ہیں، کی جانب سے بغیر اجازت گھروں میں داخل ہونے اور توہم پرستی کے نام پر لوگوں سے رقم وصول کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
گاؤں والوں کے مطابق، مذکورہ افراد مبینہ طور پر خواتین کو ڈرا دھمکا کر دھاگے، تعویذ اور مختلف ٹونے ٹوٹکے کرنے کے نام پر رقم وصول کرتے رہے، جبکہ بعض گھروں سے رضائیاں بھی لے جانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ مردوں کی گھروں میں عدم موجودگی کے دوران مبینہ طور پر خواتین کو خوفزدہ کرکے بلیک میل کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
گاؤں والوں کے مطابق، جب انہوں نے اس عمل کی مزاحمت کی تو مبینہ طور پر جھگڑا کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، تاہم گاؤں والوں نے الزام عائد کیا کہ لین دین کے بعد دونوں افراد کو چھوڑ دیا گیا۔ اس الزام کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب علاقے میں بھگت گیری اور توہم پرستی کے نام پر مبینہ طور پر لوگوں کے استحصال کی مزید شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض نام نہاد بھوپے بیماریوں، گھریلو مسائل اور ذاتی پریشانیوں کا علاج کرنے کا دعویٰ کرکے لوگوں سے رقم اور جانور وصول کر رہے ہیں۔
ایک دیہاتی نے دعویٰ کیا کہ اس کی اہلیہ کی ٹانگ میں درد ہونے کے بعد اسے ایک مبینہ بھوپے کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا گیا، جہاں علاج کے نام پر اسے خوفزدہ کیا گیا اور کالے بکرے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے مطابق، مالی مشکلات کے باعث اس نے اپنی قیمتی گائے کم قیمت پر فروخت کرکے بکرا خریدا، تاہم اس کی اہلیہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
مقامی لوگوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ بعض مقامات پر نام نہاد بھوپے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو اکیلے کمرے میں دیکھنے یا علاج کرنے کے نام پر ایسے مطالبات کرتے ہیں جن پر شدید خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایسے الزامات کی بھی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بھگت گیری، توہم پرستی اور لوگوں کو خوفزدہ کرکے رقم یا دیگر سامان وصول کرنے کے عمل کے باعث غریب خاندانوں کو مالی اور سماجی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ثبوت فراہم کرنے والے افراد کو تحفظ دیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
دیہاتیوں کا مطالبہ ہے کہ تھرپارکر کے دیہات میں بھگت گیری اور توہم پرستی کے نام پر مبینہ استحصال کو روکا جائے اور عوام کو خوف، بلیک میلنگ اور مالی نقصان سے محفوظ بنایا جائے۔



