ایران نے معاہدہ نہ کیا تو صدر ٹرمپ دوبارہ شدید بمباری کا آغاز کریں گے، امریکی سینیٹر جم بینکس

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی ریپبلکن سینیٹر جم بینکس نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق نہ کیا، تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر فوجی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیں گے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سینیٹر جم بینکس کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام مذاکرات کی میز پر آ کر فوری پیش رفت نہیں دکھاتے تو صدر ٹرمپ ان کے خلاف دوبارہ شدید بمباری کی ہدایت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ تاحال تنازع کے پُرامن اور سفارتی حل کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ سینیٹر جم بینکس کے مطابق حملوں کو فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کسی کمزوری یا پسپائی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ تہران کو مذاکرات کی طرف لوٹنے اور سیز فائر کا موقع فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

ایرانی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جم بینکس نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایرانی قیادت کے اندر شدید نظریہ سازی اور تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف جہاں شدت پسند فوجی حلقے موجود ہیں، وہیں دوسری جانب ایران کی حکومتی قیادت کے بعض بااثر عناصر امریکی فوجی دباؤ اور اقتصادی سختیوں سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

سینیٹر جم بینکس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اس وقت ایران کے دو مختلف دھڑوں سے نمٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکمراں طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور وہ امریکی فوجی صلاحیتوں اور عزم سے اچھی طرح واقف ہے، اسی لیے وہ اس تنازع کا ختم ہونا چاہتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button