لاہورمیں ٹی آر کی چھتیں جان لیوا،30جون سے30جولائی تک29افرادلقمہ اجل،پے در پے سانحات نےکئی خاندان اجاڑ دیے

لاہور(سپیشل رپورٹ:جانوڈاٹ پی کے)مون سون بارشوں کے موسم نے لاہور میں ایک سنگین اور تشویشناک مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹی آر (T-Iron) گارڈر سے بنی خستہ حال چھتیں مسلسل انسانی جانیں نگل رہی ہیں۔ صرف ایک ماہ کے دوران ایسے متعدد افسوسناک حادثات رونما ہوئے جن میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ کئی خاندان ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار ہو گئے۔ ان واقعات نے نہ صرف شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کیا بلکہ پرانی اور غیر محفوظ عمارتوں کی حالت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
30جون:کاہنہ میں ٹی آر کی کچی چھت گرنے سے14بچے شہید
اس المناک سلسلے کا آغاز 30 جون کو کاہنہ کے علاقے بستی عیدگاہ میں قائم ایک نجی ٹیوشن سینٹر سے ہوا، جہاں ایک گھر میں قائم تعلیمی مرکز کی ٹی آر گارڈر سے بنی چھت اچانک گر گئی۔ اس وقت چھت کی مرمت کا کام جاری تھا جبکہ اندر تقریباً 35 بچے موجود تھے۔ حادثے میں 14 کمسن بچے جاں بحق ہوگئے، جن میں ایک ہی خاندان کے تین بچے بھی شامل تھے، جبکہ خاتون ٹیچر سمیت آٹھ بچے زخمی ہوئے۔ دھماکے کی آواز سن کر اہلِ علاقہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا کر بچوں کو نکالا، بعد ازاں ریسکیو ٹیموں نے کارروائی مکمل کی۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کاہنہ کے مطابق 19 بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 14 جانبر نہ ہو سکے۔ واقعے کے بعد پولیس نے مالک مکان سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیا، جبکہ اس سانحے پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 14 بچے جاں بحق
کاہنہ سانحے کے صرف دو روز بعد، 2 جولائی کو باغبانپورہ میں ایک نجی سکول کی زیر تعمیر عمارت کی چھت توسیعی کام کے دوران گر گئی۔ اس حادثے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ مزدوروں اور راہگیروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے تعمیراتی کاموں کے دوران حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔
11جولائی کوگوالمنڈی کے علاقے میں لاہور ہوٹل کے قریب ایک مکان کی بالائی منزل کی لکڑی سے بنی خستہ حال چھت گرگئی جس کے نتیجے میں6خواتین ملبے تلے دب گئیں۔ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبنے والی خواتین کی شناخت ماریہ، نبیہ، مینال، جوریہ، بابرا اورفوزیہ کے نام سے ہوئی ہے۔
11جولائی گوالمنڈی
25 جولائی کو گڑھی شاہو کی ریلوے کالونی میں ٹی آر سے بنی ایک خستہ حال رہائشی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں میاں، بیوی اور ان کی کمسن بیٹی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور بچی زخمی ہوئی۔ یہ حادثہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ صرف تعلیمی ادارے ہی نہیں بلکہ پرانے رہائشی مکانات بھی شدید خطرے کی زد میں ہیں۔
25جولائی:گڑھی شاہو میں والدین کمسن بیٹی سمیت جاں بحق
اس کے بعد27جولائی کو شالیمار روڈ کے علاقے پٹھان کالونی میں مسلسل بارشوں کے باعث ایک کچے مکان کی چھت گر گئی، جس سے تین افراد زخمی ہوئے۔ اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم یہ بھی خستہ حال عمارتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کی ایک اور نشاندہی تھی۔
27جولائی:شالیمار روڈ
ان تمام واقعات کے بعد30جولائی کو باغبانپورہ میں پیش آنے والا سانحہ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا ثابت ہوا۔ ایک سالگرہ کی تقریب جاری تھی کہ اچانک ٹی آر سے بنی چھت زمین بوس ہوگئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق جبکہ چھ افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ رات10بجکر45منٹ پر پیش آیا اور کئی گھنٹوں کی مسلسل کارروائی کے بعد ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکالا گیا۔
باغبانپورہ،ایک ہی خاندان کے11افرادلقم اجل بن گئے(30جولائی)
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو لاہور بھر میں خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں کا فوری سروے کرنے، ٹی آر گارڈر سے بنی کمزور چھتوں کی نشاندہی کرنے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت جاری کی۔
سانحہ کاہنہ کے متاثرہ بچوں کے لواحقین کو 25-25لاکھ فی کس دیئے
تعمیراتی ماہرین کے مطابق لاہور کے قدیمی علاقوں میں ہزاروں مکانات اب بھی ٹی آر گارڈر اور پرانے طرزِ تعمیر پر مشتمل ہیں۔ وقت گزرنے، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، نمی، زنگ اور مسلسل بارشوں کے باعث یہ چھتیں اپنی مضبوطی کھو چکی ہیں اور کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بارش کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں، بلکہ عمارتوں کی باقاعدہ تکنیکی جانچ، بروقت مرمت اور تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
شہریوں کا بھی مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر پرانی اور خطرناک عمارتوں کا جامع سروے کرائے، خستہ حال مکانات کے مالکان کو مرمت یا ازسرِنو تعمیر کا پابند بنائے، تعمیراتی ضوابط پر سختی سے عمل کرایا جائے اور عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو ایسے المناک سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
لاہور میں ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے یہ مسلسل حادثات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ٹی آر سے بنی خستہ حال چھتیں مستقبل میں بھی قیمتی انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی رہیں گی۔
رواں سال18مارچ کوجوہر ٹاؤن کے علاقے سمسانی روڈ پر ایک خستہ حال کمرے کی چھت گر گئی جس سے ملبے تلے دب کر3افراد زخمی ہوگئے،زخمیوں میں43سالہ سلیم،26سالہ حنیف اور16سالہ بلال شامل ہے۔
18مارچ جوہر ٹاؤن








