تھرکول رائلٹی پرقانون سازی کا مطالبہ،متاثرین اور سول سوسائٹی کی12نکاتی قراردادمنظور

تھرپارکر (رپورٹ: ميندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھر کول سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں، سول سوسائٹی، وکلا، صحافیوں، نوجوانوں اور سماجی رہنماؤں نے تھر کول رائلٹی کے حوالے سے 12 نکاتی مشترکہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تھر سے حاصل ہونے والی کوئلے کی رائلٹی میں مقامی عوام کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے فوری قانون سازی کی جائے اور رائلٹی کا بڑا حصہ تھرپارکر کی ترقی پر خرچ کیا جائے۔
اس سلسلے میں پریس کلب اسلام کوٹ میں ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جونیجو سمیت مختلف سماجی، قانونی اور صحافتی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں "تھر کول رائلٹی فنڈ” کے قیام، رائلٹی کی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ تھرپارکر کی ترقی کے لیے مختص کرنے، سالانہ وائٹ پیپر جاری کرنے اور فنڈ کا آزادانہ آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ رائلٹی فنڈ کے بورڈ میں متاثرہ دیہات، خواتین، نوجوانوں، سول سوسائٹی، مقامی منتخب نمائندوں اور ماہرین کو نمائندگی دی جائے، جبکہ صحت، تعلیم، صاف پانی، شجرکاری، ماحولیاتی بحالی، روزگار، فنی تربیت، اسکالرشپس، ٹیکنیکل اداروں اور یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔
شرکاء نے زمینوں سے محروم اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مناسب بحالی، معاوضے اور متبادل روزگار کی فراہمی، رائلٹی فنڈ کے استعمال پر سالانہ عوامی سماعت (پبلک ہیرنگ)، "تھر کول رائلٹی مینجمنٹ ایکٹ” کی منظوری اور آئندہ نسلوں کے لیے "فیوچر جنریشن فنڈ” قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ تھر کے قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی عوام کا ہے، مگر تھر کول منصوبوں کے باعث ہزاروں ایکڑ زمین اور چراگاہیں متاثر ہوئی ہیں، زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی افراد کو روزگار کے مناسب مواقع بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
مقررین نے الزام عائد کیا کہ بلاک ون اور بلاک ٹو کے منصوبوں کے دوران مقامی افراد کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا، جبکہ تھر کول رائلٹی کی مد میں اربوں روپے سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں موجود ہونے کے باوجود تھرپارکر کے عوام تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ "تھر کا کوئلہ، تھر کے عوام کا حق” کے اصول کے تحت رائلٹی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور قرارداد کو سندھ حکومت، متعلقہ محکموں، منتخب نمائندوں، ضلعی انتظامیہ اور وفاقی اداروں کو عملدرآمد کے لیے بھیجا جائے۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مشترکہ لائحہ عمل کے تحت احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔



