مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش، کوشش ہے فریقین کو اسلام آباد ایم او یو پر واپس لایا جائے، دفتر خارجہ

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش ہے اور خطے میں امن کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے اور پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ متعلقہ فریقین کو اسلام آباد ایم او یو کے تحت مذاکراتی عمل پر واپس لایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار جاری رکھے گا۔
طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جبکہ 25 جولائی کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ اردن کے وزیر خارجہ سے بھی بات چیت ہوئی، جبکہ گزشتہ روز کویت کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا سرکاری دورہ مکمل کیا۔
ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت خلیجی خطے کی صورتحال تشویشناک ہے، تاہم پاکستان کو امید ہے کہ تمام فریق جلد تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو خطے کے دیگر حصوں تک نہیں پھیلنا چاہیے۔ ترجمان کے مطابق سعودی وزارت دفاع کے بیان میں عراق سے متعدد ڈرون حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس معاملے پر پاکستان سعودی عرب کے مؤقف کا جائزہ لے رہا ہے۔
بھارت کی جانب سے پاکستانی میڈیا پر پابندیوں پر ردعمل
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے پاکستانی ٹی وی چینلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی محدود کرنے کے اقدام کو "مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت سرکاری بیانیے کو فروغ دینے اور معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے اور آزاد آوازوں کو دبانے کے لیے پابندیوں اور جابرانہ اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی میڈیا اور صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں آزادیٔ اظہار پر عائد پابندیوں کا نوٹس لیں۔
ترجمان نے ڈی ڈبلیو کی ایک دستاویزی فلم کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرانے بیانیے، قیاس آرائیوں اور جانبدار ذرائع پر مبنی ہے، اس لیے پاکستان اسے قبول نہیں کرتا۔



