ایپوا اجلاس میں سوشل پنشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے) ایپوا (EPWA) کا اہم اجلاس چیئرمین جناب اظفر شمیم کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں ایپوا کی تنظیمی سرگرمیوں سوشل پنشنرز کے حقوق کے تحفظ اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس میں حکومتی سطح پر ای او بی ائی اور سی ڈی اے کے تحت ہونے والے اجلاس اور اس کے مضمرات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی اجلاس میں متین خان وائس چیئرمین، نسیم احمد صدر، شمس الضحیٰ ذبیری سینئر نائب صدر، رضا حیدر سیکرٹری اطلاعات، ظفر پاشا میمبر ایگزیکٹیو احتشام الحسن ، ملکہ افروز روہیلہ اور نوشابہ ہاشمی نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر شمیم نے کہا کہ ای او بی ائی اس سے قبل بھی مختلف چیزوں میں انویسٹمنٹ کرتی رہی ہے اور اس انویسٹمنٹ کو ڈبو دیا گیا اس سے پہلے سہارا انشورنس کمپنی بنائی گئی جس میں پانچ ملین روپے کی انویسٹمنٹ کی گئی یہ انشورنس کمپنی کہاں گئی کچھ پتہ نہیں انہوں نے کہا کہ ای او بی ائی کا جو بھی چیئرمین اتا ہے وہ اپنی مرضی کرتا ہے اظہر حمید  سب سے اچھے چیئرمین رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنے مالی وسائل نہیں ہیں کہ ہم اپنی لیگل ایڈ کمیٹی بنا سکیں۔ ای او بی ائی کے پینشنرز کے لیے ہسپتال یا میڈیکل انشورنس کیا جائے انہوں نے کہا ہم سب لوگ باہمی مشاورت سے چل رہے ہیں اور یہی ہماری کامیابی ہے انہوں نے کہا اکثر وی لوگر اپنے اپنے وی لوگ بنا کر پنشنرز کو گمراہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایپوا کا اپنا وی لوگر ہونا چاہیے جو صحیح خبر بنا کر بھیجے اور ہمارے لاکھوں پنشنرز ہیں جو اسے فالو کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر نو منتخب صدر ایپوا نسیم احمد نے حکومتی سطح پر ای او بی ائی اور سی ڈی اے کے تحت اسلام اباد میں سیاحت، تفریح, ہوٹل انڈسٹری اور دیگر شعبوں سے متعلق متعدد مشترکہ منصوبوں کے شروع کرنے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر پینشنرز کے تحفظات ہیں اور جلد ہی اس سلسلے میں ہم مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایپوا خواتین ونگ کی صدر ملکہ آفروز روہیلہ نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سی ڈی اے اور ای او بی ائی کے مابین ہونے والے مبینہ معاہدے سے سوشل پنشنر پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو کی انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کے لیے کھلا میدان ہے یہ ہمارا پیسہ ہے ہمیں بھی اس میں شامل کیا جائے سیاحت پر ای او بی ائی کی انویسٹمنٹ پر ایک پریس کانفرنس بھی بلائی جائے۔ متین خان صاحب نے کہا کہ این ایل ایف کے ظفر خان کو ایپو میں شامل کیا جائے انہوں نے بتایا کہ 2012 میں سہارا انشورنس کمپنی بنائی گئی جسے وائنڈ اپ کر دیا گیا۔ ظفر پاشاہ صاحب نے ای او بی ائی کے قوانین کے متعلق تفصیلی گفتگو کی انہوں نے کہا کہ 1976 میں ای او بی ائی کے قیام کے وقت جو قوانین بنائے گئے تھے اج 2026 تک اس میں کوئی امینڈمنٹ نہیں کی گئی ای او بی ائی کی اشرافیہ نے ادارے کو کمزور کیا ۔ شمس الضحی زبیری نے کہا کہ ای او بی ائی کا اپنا بینک ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے ای او بی ائی کے پیسے سیاحت پر خرچ کرنے کا پلان بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ای او بی ائی کا فنڈ 50 فیصد بینک میں 25 فیصد پراپرٹی میں یا اسٹاک ایکسچینج میں رکھا جانا چاہیے ۔ رضا حیدر نے کہا کہ ای او بی ائی  1976 کے قانون میں ترمیم کی جانی چاہیئے اس کے لیئے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کی جائیں تاکہ پارلیمنٹ تک ہماری بات پہنچ سکے گورنر سندھ سے ملاقات کے لیئے انہوں نے ان کے پی ایس فیصل فاروقی کو فون کیا انہوں نے گورنر سے ملاقات کے لیے ایپوا کے لیٹر ہیڈ پر درخواست مانگی رضا حیدر نے کہا کہ ایک درخواست یا خط وزیراعظم کے نام بھی لکھا جائے اور وہ گورنر صاحب کو دیا جائے تاکہ وہ وزیراعظم تک پہنچا سکیں نوشابہ ہاشمی نے کہا کہ ہر سال پینشن میں اضافہ ہونا چاہیے سیاحت پر خرچ کرنے پر اگر انکم ای او بی ائی کے فنڈ میں جمع ہوتی ہے تو ٹھیک ہے اور اگر حکومت کے پاس جاتی ہے تو یہ کام نہیں ہونا چاہیے ہم کیوں اس میں انویسٹمنٹ کریں اجلاس کے اختتام پر سلمان اشرف وائس چیئرمین، وی ٹرسٹ اور زاہد عسکری ٹرسٹی وی ٹرسٹ نے خطاب کرتے ہوئے ایپوا کی نئی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یقین دلایا کہ وی ٹرسٹ سوشل پنشنرز کے حقوق کی جدوجہد میں ایپوا کی قیادت کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور بھرپور حمایت جاری رکھے گا وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر ملک محمد شفیع علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، تاہم ان کی جانب سے ایپوا کی نئی قیادت کے لیے نیک خواہشات اور مکمل تعاون کا پیغام پہنچایا گیا اجلاس کے اختتام پر وی ٹرسٹ کی جانب سے شرکاء کے اعزاز میں ایک پُرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔ شرکاء نے وی ٹرسٹ کی میزبانی، تعاون اور سوشل پنشنرز کی فلاح و بہبود کے لیے اس کے مثبت کردار کو سراہا

مزید خبریں

Back to top button