بھارتی عدلیہ سے انصاف کی توقع نہیں، سزائے موت قبول ہے، کشمیری رہنما یسین ملک

سرینگر: کشمیری رہنما یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرا دیا، جس میں انہوں نے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں سزائے موت بھی دی گئی تو وہ اسے قبول کریں گے۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنا دفاع مزید آگے بڑھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے کسی سزا کو قبول کرنے کا مطلب جرم کا اعتراف نہیں ہوگا۔
یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے کی دوٹوک تردید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں کئی دہائیوں بعد سیاسی حالات کے باعث اس مقدمے میں جھوٹا ملوث کیا گیا۔
انہوں نے مبینہ جے کے ایل ایف کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک نوٹ کا بھی حوالہ دیا، جس کے بارے میں تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ یہ قتل کی ذمہ داری سے متعلق تھا۔ یاسین ملک نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ نوٹ واقعی 1990 میں موجود تھا تو اس وقت اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
یاسین ملک کے مطابق سرلا بھٹ کے قتل سے چند روز قبل وہ شدید زخمی ہوئے تھے اور طویل عرصے تک بے ہوشی کی حالت میں رہے، اس لیے ان کے بقول قتل کی منصوبہ بندی یا اس کی ہدایت دینے کا الزام درست نہیں۔
انہوں نے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ بھارتی حکام نے بعد کے برسوں میں ان کی سیاسی سرگرمیوں اور پاکستان سے رابطوں کو بھی ان کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا۔ یاسین ملک نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمات اور نام کو مختلف ادوار میں سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یاسین ملک نے کہا کہ انہوں نے سیاسی انتقام کے خلاف احتجاجاً مقدمہ مزید نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول عدالت اگر سزائے موت بھی عائد کرتی ہے تو وہ اسے کشمیر کے لیے قبول کریں گے، تاہم اس کا مطلب الزامات تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے طویل قید، تنہائی اور اپنے اہل خانہ سے برسوں کی جدائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی کے حوالے سے بھی جذباتی کلمات تحریر کیے۔
یاسین ملک نے کہا کہ انہوں نے اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی ہے اور اب فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سرلا بھٹ قتل کیس میں یاسین ملک سمیت دیگر افراد کے خلاف جون 2026 میں چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔ بھارتی تفتیشی ادارے نے 1990 کے قتل سے متعلق 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کی تھی، جبکہ یاسین ملک نے اس مقدمے میں اپنے خلاف الزامات مسترد کیے ہیں۔



