انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا میں حکومت کے مفت کھانے کے پروگرام سے منسلک مختلف واقعات میں تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوگئے، جن میں رواں ہفتے مشرقی جاوا کے 500 سے زائد طلبہ بھی شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمانی کمیشن برائے صحت کے رکن چارلس ہونوریس نے بتایا کہ مشرقی جاوا کے شہر سیدوارجو میں 512 طلبہ، نگانجک میں 49 افراد جبکہ مغربی سُمترا کے علاقے آگم میں 237 افراد فوڈ پوائزننگ سے متاثر ہوئے۔ تینوں واقعات میں متاثرین کی مجموعی تعداد 798 بنتی ہے۔
چارلس ہونوریس نے مقامی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات الگ تھلگ نوعیت کے نہیں بلکہ مفت کھانے کے پروگرام میں نظام کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر پرابوو سوبیانتو نے یہ اربوں ڈالر کا پروگرام بچوں میں غذائی کمی پر قابو پانے کے لیے شروع کیا تھا، جس کے تحت ملک بھر میں لاکھوں بچوں سمیت دیگر مستحق افراد کو مفت غذائیت بخش کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم پروگرام کو بارہا فوڈ پوائزننگ کے واقعات، کرپشن کے الزامات، انتظامی تبدیلیوں اور مالی بوجھ کے باعث تنقید کا سامنا رہا ہے۔
مفت کھانے کے پروگرام کی نگرانی کرنے والی نیشنل نیوٹریشن ایجنسی نے سیدوارجو کے واقعے سے منسلک کچن کو معطل کردیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے معاملے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔
غیر سرکاری ادارے نیٹ ورک فار ایجوکیشن واچ کے مطابق 8 اگست تک مفت کھانے کے پروگرام سے منسلک فوڈ پوائزننگ کے واقعات میں 37 ہزار 600 افراد متاثر ہوچکے تھے۔ حکام ماضی میں متعدد واقعات کی وجوہات میں کھانے کی غیر مناسب ذخیرہ اندوزی اور پکے ہوئے کھانے کی ترسیل میں تاخیر کو شامل کرتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جولائی میں سیفُل مُجانی ریسرچ اینڈ کنسلٹنگ کے سروے میں صرف تقریباً ایک تہائی افراد نے پروگرام پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ فوڈ پوائزننگ کے واقعات عوامی تشویش کی بڑی وجوہات میں شامل رہے۔



