ازدواجی جبر: کیا ہم واقعی عورت کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟

نہال معظم

​ایک معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں عمر کے آخری پہر میں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے تھا، وہاں ایک 64 سالہ شوہر نے اپنی 58 سالہ بیوی کو محض ہم بستری سے انکار کرنے پر لوہے کے راڈ مار کر ابدی نیند سلا دیا۔ یہ واقعہ محض ایک قتل نہیں بلکہ ہماری اخلاقی دیوالیہ پن اور گھروں کے اندر چھپے اس درندے کی عکاسی ہے جو عورت کو محض ایک جنسی تسکین کا آلہ سمجھتا ہے۔ اسلام، جو کہ امن اور باہمی احترام کا دین ہے، اس نے نکاح کو ایک مقدس معاہدہ قرار دیا ہے جس کی بنیاد سکون، رحمت اور مودت پر رکھی گئی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں دین کی ناپختہ سمجھ نے مرد کو یہ غلط فہمی دے دی ہے کہ وہ اپنی بیوی کا مالک ہے، جبکہ قرآن مجید میں مرد کے لیے ‘قوام’ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب حاکم یا مالک نہیں بلکہ نگہبان اور انچارج کے ہیں۔ یہ ایک ایسی بھاری ذمہ داری ہے جس کے بارے میں مرد سے روزِ قیامت بازپرس ہوگی کہ اس نے اپنی اس ذمہ داری کو کیسے نبھایا۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، لیکن ہم نے اس حکم کو پسِ پشت ڈال کر اپنی انا کی تسکین کو ترجیح دے دی ہے۔ احادیث نبوی میں بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید بار بار کی گئی ہے اور بہترین شخص اسے قرار دیا گیا جو اپنی بیوی کے ساتھ اخلاق میں بہترین ہو۔ جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے جس میں ہم بستری سے انکار پر فرشتوں کی لعنت کا ذکر ہے، تو علماے کرام اس کی تشریح میں یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ تنبیہ تب ہے جب عورت بلاوجہ اور شرعی عذر کے بغیر ایسا رویہ اپنائے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شوہر کو جبر یا تشدد کا لائسنس مل گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روح کے مطابق نکاح کسی فریق کو دوسرے پر جسمانی یا جنسی درندگی کا حق نہیں دیتا؛ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ (لا ضرر ولا ضرار)، اور بیوی کے ساتھ زبردستی ہم بستری کرنا اسی اصول کے منافی ایک فعل ہے۔ ازدواجی زندگی میں زبردستی ہم بستری یا ریپ کا ارتکاب ایک گھناؤنا جرم ہے، جو بیوی کی شخصیت کو اندر سے تباہ کر دیتا ہے۔ جسمانی طور پر یہ تشدد زخموں اور تکالیف کا باعث بنتا ہے، جبکہ نفسیاتی طور پر یہ عمل عورت کے اندر شدید ڈپریشن، خوف، خود اعتمادی کی کمی اور ایک مستقل صدمے کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ عورت کا جسم اس کی اپنی امانت ہے اور اس کی رضامندی کے بغیر اسے استعمال کرنا درندگی ہے۔ اگر بیوی ہم بستری سے انکار کرتی ہے تو اس کے پیچھے اکثر جسمانی تھکاوٹ، ذہنی دباؤ، شوہر کا نامناسب رویہ، بیماری یا جذباتی دوری جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ حکمران بننے کے بجائے ایک ساتھی کا کردار ادا کرے، بیوی کی کیفیات کو سمجھے اور اسے اعتماد میں لے، نہ کہ لوہے کے راڈ سے اس کا سر پھوڑ کر اپنی انا کی تسکین کرے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے مسائل پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ علماے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ منبر و محراب سے صرف حقوق العباد کی باتیں نہ کریں بلکہ میاں بیوی کے باہمی تعلقات کے حوالے سے اسلام کا اصل اور نرم رویہ بھی بیان کریں اور بتائیں کہ ایک قوام کی حیثیت سے ان کی جوابدہی اللہ کے سامنے کتنی سخت ہے۔ سماجی سطح پر بھی ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، جہاں ہم لڑکیوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں لیکن لڑکوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ عورت کی رضامندی کا احترام ان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ جب تک گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے مظالم کو ہم پردہ راز میں رکھتے رہیں گے، ایسے واقعات جنم لیتے رہیں گے۔ ایک معاشرہ تبھی ترقی کر سکتا ہے جب ہر فرد کی عزتِ نفس محفوظ ہو اور گھر سکون کا گہوارہ ہو نہ کہ تشدد زدہ میدان، کیونکہ حقیقی مرد وہ ہے جو اپنی طاقت کا استعمال ظلم کے لیے نہیں بلکہ اپنی ساتھی کے تحفظ کے لیے کرے۔

مزید خبریں

Back to top button